78 سال سے ملک کا نظام کون چلا رہا ہے؟ آج نظام کے کولیپس کا شور مچانے والے ہی ذمہ دار ہیں، راشد محمود سومرو

ٹنڈوباگو(جانوڈاٹ پی کے) جمعیت علماء اسلام (ف) سندھ کے جنرل سیکرٹری مولانا راشد محمود سومرو نے ملک کے سیاسی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 78 سال سے ملک کا نظام کون چلا رہا ہے، اسمبلیاں کس نے توڑیں، اقتدار کی بندربانٹ اور خریدوفروخت کس نے کی، اس کا جواب بھی قوم کے سامنے آنا چاہیے۔
جمعہ کی رات ٹنڈوباگو کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ آج جو لوگ نظام کے کولیپس ہونے کی بات کر رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کا نظام کس کے ہاتھ میں رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کی تقدیر کے فیصلے کس نے کیے، اسمبلیوں میں خریدوفروخت کس نے کی اور ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر لوگوں کو اقتدار میں لانے اور پھر اقتدار سے باہر کرنے کا سلسلہ کس نے شروع کیا، ان سوالات کے جواب ضروری ہیں۔ ان کے بقول نظام کی تباہی کے اصل ذمہ دار وہی عناصر ہیں جو آج نظام کے کولیپس کا شور مچا رہے ہیں۔
نئے صوبوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے راشد محمود سومرو نے کہا کہ آصف علی زرداری کا ایک بیٹا محسن نقوی نئے صوبوں کی بات کرتا ہے جبکہ دوسرا بیٹا بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ کی تصویر لگا کر نئے صوبوں کی مخالفت کر رہا ہے، عوام کے سامنے اس تضاد کی وضاحت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے سندھ کی تقسیم سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد نئے صوبوں کی بحث ختم کرکے سندھ کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مولانا راشد محمود سومرو نے سندھ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ اس وقت کرپشن، رشوت اور اقرباپروری کی لپیٹ میں ہے، سرکاری اسپتالوں میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے جبکہ لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے بھر میں منشیات کا کاروبار مبینہ طور پر سرعام جاری ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سیاسی نعروں کے بجائے عوام کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں اور منشیات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
راشد محمود سومرو نے خبردار کیا کہ اگر سندھ حکومت نے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات نہ کیے تو سندھ کے عوام آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کو مسترد کردیں گے۔



