ملک کو ریسکیو کرنا ہوگا، صوبوں کے معاملے پر ریفرنڈم کرایا جائے، ایس ایم تنویر

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) یونائیٹڈ بزنس گروپ کے رہنما ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ڈسٹرکٹ اکانومی کو مضبوط اور اضلاع کو بااختیار بنانا ہوگا، چین نے ڈسٹرکٹ اکانومی کے ذریعے پورے پورے شہر آباد کیے ہیں۔
لاہور میں قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان روزانہ کی بنیاد پر تنزلی کی طرف جا رہا ہے، برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ ملک کی آبادی ہر سال بڑھ رہی ہے، اس لیے معیشت کو ہر صورت بہتر بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئی صنعتیں نہیں لگ رہیں بلکہ موجودہ فیکٹریاں بھی بند ہو رہی ہیں۔ ملک میں ہر قسم کا موسم موجود ہے لیکن اس کے باوجود زراعت کا شعبہ مطلوبہ ترقی نہیں کر رہا۔ دنیا کا بہترین اچار شکارپور میں بنتا ہے، مگر ہم اپنی مقامی پیداوار کو عالمی منڈی تک لے جانے میں ناکام ہیں۔
ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 55 ہزار میگاواٹ کا ونڈ کوریڈور موجود ہے، تھر میں بہترین کوئلہ ہے اور چنیوٹ میں اعلیٰ معیار کا فرنیچر تیار کیا جا رہا ہے، لیکن ان شعبوں سے برآمدات نہیں ہو رہیں۔
انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کو کبھی ”مانچسٹر آف ٹیکسٹائل” کہا جاتا تھا، مگر آج وہاں صنعتوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ ہم پوری دنیا میں کشکول لے کر پھر رہے ہیں، اس طرزِ حکمرانی اور معاشی پالیسیوں کے ساتھ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
کاروباری رہنما نے زور دیا کہ اضلاع کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی سطح پر روزگار، صنعت اور تجارت کو فروغ دیا جاسکے۔
صوبوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ایس ایم تنویر نے کہا کہ ملک میں نئی بحث شروع ہوچکی ہے اور مختلف حلقے اس معاملے پر بات کر رہے ہیں۔ صوبہ بننا ہے یا نہیں بننا، اس کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جس انداز سے ملک چل رہا ہے، اس طرح پاکستان نہیں چل سکتا۔ اگر بروقت ملک کو ریسکیو نہ کیا گیا تو آنے والی نسلوں کو جواب دینا مشکل ہوگا۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے اور صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر بھی عوام سے براہِ راست رائے لی جائے۔



