علی امین گنڈاپور کے تہلکہ خیز انکشافات، مائنس بانی پی ٹی آئی منصوبے اور شیر افضل مروت کا معاملہ کھول دیا

پشاور (ویب ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے سے تقریباً 10 روز قبل سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ان سے ملاقات کی اور کہا کہ عمران خان کچھ باتوں پر راضی نہیں، انہیں منایا جائے۔

ایک انٹرویو میں علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ اسپیکر کے گھر کے سامنے واقع ایک چھوٹے پارک میں پرویز خٹک سے ملاقات ہوئی، جہاں خٹک نے بتایا کہ باجوہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ ایکسٹینشن دے دو، انہیں این آر او دے دو، پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔

علی امین گنڈاپور نے مزید دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ختم ہونے کے بعد اسی شام مولانا صاحب اور باجوہ صاحب کی ملاقات ہوئی تھی، جبکہ نومبر 2020 میں بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرنے پر کام شروع ہوگیا تھا اور اس بارے میں کچھ لوگ جانتے تھے۔

انہوں نے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کے حوالے سے کہا کہ اکاؤنٹ بیرون ملک سے چلایا جا رہا ہے اور اسے چلانے والے اپنی مرضی سے مواد پوسٹ کرتے ہیں، جبکہ انہیں پاکستان سے بھی ہدایات دی جاتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان سے سیز فائر کا دعویٰ

مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے مولانا صاحب سے کہا تھا کہ حق پر آجائیں اور مخصوص نشستیں چھوڑ دیں۔ ان کے بقول مولانا کے ساتھ ان کا پہلے سے سیز فائر ہے اور اگر مولانا اس تحریک میں پی ٹی آئی کے ساتھ آنے کو تیار ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

شیر افضل مروت کی حمایت میں علی امین گنڈاپور کا اہم بیان

سابق وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی سے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو نکالے جانے کے معاملے پر بھی کھل کر بات کی۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی پر مشکل ترین وقت آیا تو شیر افضل مروت گراؤنڈ میں آئے اور انہوں نے مختلف اضلاع میں مہم چلائی، جس سے کارکنوں کا جوش بڑھا۔ ان کے مطابق مروت سندھ اور بلوچستان بھی مہم کے لیے گئے، تاہم پنجاب پہنچنے پر انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے، اگر شیر افضل مروت نے کوئی بات کہہ دی تو کیا ہوگیا؟ ان کے مطابق ذاتی مفاد کے لیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے لوگوں کو ہٹایا گیا، مگر ان کی برطرفی سے عمران خان کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت کے ساتھ پہلے پارٹی نے زیادتی کی اور پھر ان کی حکومت نے بھی، جبکہ ان کے حلقے کے فنڈز کے معاملات بھی اس تنازع کا حصہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے لیے پارٹی کو ان کے بجائے شیر افضل مروت جیسے شخص سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مروت کو پارٹی سے ضرور نکالا ہوگا، انہیں کوئی عہدہ نہ دیا جائے لیکن ذمہ داری ضرور دینی چاہیے۔

علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کے لیے کسی کو منانے کی ضرورت نہیں، بانی پی ٹی آئی ان سے زیادہ ان کے ساتھ ہیں، وقت آنے پر سب کو نظر آجائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button