اے آئی کا سبز انقلاب، کچرے کو سونا بنانے کا وقت آگیا!

نہال معظم
جب بھی دنیا میں کوئی نئی ٹیکنالوجی آتی ہے تو شروع میں لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف کام کو تیز کرنے اور زیادہ پیسے کمانے کے لیے ہے۔ آج کل مصنوعی ذہانت یعنی AI کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہر طرف یہی چرچا ہے کہ AI دفتروں کا کام آسان کر دے گی، وقت بچائے گی اور کمپنیوں کا منافع بڑھا دے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا اصلی اور سب سے بڑا فائدہ یہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری زمین کو تباہی سے بچانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہم پچھلے کئی برسوں سے ایک بہت غلط معاشی طریقے پر چل رہے ہیں۔ ہم زمین کے اندر سے تیل، گیس اور معدنیات نکالتے ہیں، ان سے اشیاء بناتے ہیں، انہیں ایک بار استعمال کرتے ہیں اور پھر کوڑے میں پھینک دیتے ہیں۔ اس طرزِ زندگی سے زمین کے محدود وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔
اس کا واحد حل "دوبارہ استعمال کی معیشت” یعنی سرکولر اکانومی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین سے نیا سامان نکالنے کے بجائے، جو کچرا ہم پہلے ہی پھینک چکے ہیں، اسی کو بار بار صاف اور ری سائیکل کر کے نئی چیزیں بنائی جائیں۔ اگر دنیا ایسا نہیں کرتی تو اسے ہر سال اربوں کھربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان پہلے ایسا کیوں نہیں کر پایا؟ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ پلاسٹک، الیکٹرانک کچرے اور کپڑوں کو دوبارہ بالکل اصل حالت میں لانا سائنسی لحاظ سے بہت مشکل اور وقت طلب کام تھا۔
یہیں پر AI اپنا جادو دکھاتی ہے۔ سائنسدانوں کو جن تجربات میں سالوں لگ جاتے تھے، AI وہ کام دنوں اور گھنٹوں میں کر لیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اب ایسے نئے طریقے اور جرثومے (انزائمز) ڈیزائن کرنے میں مدد کر رہی ہے جو پھینکے گئے پلاسٹک، پرانے کپڑوں اور الیکٹرانک سامان کو سیکنڈوں میں گھول کر بالکل نیا خام مال بنا دیتے ہیں۔ یعنی جو کچرا ہم زمین پر پھینک چکے ہیں، AI اسے دوبارہ سونے کی طرح قیمتی اور کارآمد بنا سکتی ہے۔
آنے والے وقت میں وہی ملک اور قومیں آگے ہوں گی جو اپنے کچرے کو دوبارہ استعمال کرنا جانتی ہوں گی۔ تیل اور گیس کے خزانوں سے زیادہ اہمیت اب ری سائیکلنگ کی ٹیکنالوجی کی ہوگی۔ تاہم، اس کے لیے ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ AI کو چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، اور اگر ہم وہ بجلی بھی زہریلے ایندھن سے بنائیں گے تو فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو پاکیزہ توانائی، جیسے سورج اور ہوا کی بجلی سے چلایا جائے۔ اگر ہم نے یہ کر لیا، تو مصنوعی ذہانت صرف ایک کمپیوٹر پروگرام نہیں رہے گی، بلکہ ہماری زمین کو بچانے والی سب سے بڑی طاقت بن جائے گی۔



