ڈیانا کیس میں ڈرامائی موڑ،عبوری ضمانت میں توسیع کے باوجود احمد تنویر گرفتار،متاثرہ خاتون نے ملزم کو بے گناہ قراردیدیا

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سیشن کورٹ کی جانب سے ملزم احمد تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کیے جانے کے باوجود اسے عدالت کے باہر سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ملزم کے بھائی سمیت دیگر افراد کو بھی گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم گرفتاری سے متعلق متضاد دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔

سماعت کے دوران ملزم تنویر کے وکیل ایڈووکیٹ صفدر شاہین پیرزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سیشن کورٹ کے چاروں اطراف پولیس تعینات تھی اور خدشہ ہے کہ ان کے موکل کو کسی نئے مقدمے میں ملوث کرکے گرفتار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب غیر ملکی خاتون ڈیانا کے وکیل نے مدعیہ کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کی درخواست دائر کردی۔ وکیل کے مطابق ڈیانا کو پاکستان کا ویزا نہیں دیا جا رہا، اس لیے عدالت ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے درخواست پر دلائل طلب کرلیے۔

سماعت کے دوران عدالت نے سیشن کورٹ کے سکیورٹی انچارج کو طلب کرتے ہوئے ملزم کو گاڑی تک بحفاظت پہنچانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ گاڑی تک سکیورٹی فراہم کی جا سکتی ہے، اس کے بعد ملزم خود جائے اور پولیس اپنی راہ لے۔

گرفتاری کے خلاف درخواست دائر

ملزم تنویر کی گرفتاری کے خلاف بھی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم 27 اکتوبر تک عبوری ضمانت پر تھا، لیکن سی سی ڈی اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکار اسے لے گئے اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

درخواست گزار نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملزم کو غیر قانونی حراست میں رکھ کر پولیس مقابلے میں ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ احمد تنویر کو فوری بازیاب کراکے پیش کیا جائے اور اس کی سکیورٹی یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

ڈیانا کا ویڈیو بیان، ملزم کو بے گناہ قرار دے دیا

دوسری جانب متاثرہ خاتون ڈیانا کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے احمد تنویر کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ احمد تنویر نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ ان کا موبائل فون اور سامان واپس کردیا تھا۔ ڈیانا نے مقدمہ ختم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق احمد تنویر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت بھی حاصل کر رکھی تھی۔ اس مقدمے میں محسن اور زین نامی دو ملزمان پہلے ہی گرفتار ہیں۔ ڈیانا کی رپورٹ پر ڈیفنس سی پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔

ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس اور اس کے ساتھیوں کے بیانات میں بھی فرق سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم ساتھیوں کی مدد سے فرار ہوگیا، جبکہ اس کے ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ تفتیشی اداروں نے اسے گرفتار کرلیا۔ واقعے اور گرفتاری کی حتمی صورتِ حال کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button