پاکستان کی علاقائی عسکری و سفارتی اہمیت بڑھ رہی ہے، بھارت کی تنہائی کی کوششیں ناکام، ڈینیئل مارکی

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف امریکی خارجہ پالیسی ماہر ڈینیئل مارکی نے کہا ہے کہ پاکستان کی علاقائی عسکری اور سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو علاقائی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

بھارتی نیوز پلیٹ فارم دی وائر کو دیے گئے انٹرویو میں ڈینیئل مارکی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو اسلام آباد کے لیے اہم کامیابی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کی بڑھتی قربت بھارت کی ان کوششوں کو کمزور کر رہی ہے جن کے ذریعے اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی تعاون سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، مالی پشت پناہی اور علاقائی اثرورسوخ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکی ماہر کے مطابق پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اتحاد بھارت کے سفارتی اثرورسوخ، عسکری آزادی اور خلیجی خطے تک رسائی کو محدود کر رہے ہیں۔

ڈینیئل مارکی نے کہا کہ بھارت نے مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی تعلقات قائم کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے، تاہم پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث اسلام آباد ایک بار پھر علاقائی طاقت کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کے علاقائی شراکت داروں کے درمیان بڑھتا تعاون بھارت کو کسی بھی فوجی کارروائی یا سرحد پر خطرناک اقدام سے قبل کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ ان کے بقول اس پیش رفت نے بھارت کے اس بیانیے کو بھی کمزور کردیا ہے کہ پاکستان علاقائی معاملات میں اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔

ڈینیئل مارکی کے مطابق پاکستان کی جوہری، روایتی اور جدید تکنیکی دفاعی صلاحیت بھارت کی یک طرفہ علاقائی بالادستی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، جبکہ پاکستان مخالف بھارتی سفارتی حکمت عملی بھی بالآخر اسلام آباد کی علاقائی اہمیت بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے جنگ آزمودہ فوج کے ذریعے علاقائی بحرانوں میں اہم کردار ادا کرتا آرہا ہے اور افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ کے دوران بھی پاکستانی افواج نے اپنی تزویراتی اہمیت ثابت کی۔

مزید خبریں

Back to top button