جیل رول 197واضح ہے ، اس میں کوئی ابہام نہیں،قیدی کا پرائیویٹ ہسپتال میں علاج جیل مینول کے خلاف ہے، وفاقی آئینی عدالت کے کیس میں ریمارکس

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی کی طرز پر طبی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت نے جیل رولز کے تحت قیدیوں کے علاج سے متعلق اہم ریمارکس دیئے ہیں۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ جیل رول 197 بالکل واضح ہے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں، عدالت کا حکم بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
جسٹس عامر فاروق نے سوال اٹھایا کہ قیدیوں کے علاج کے لیے نجی ہسپتال ہی کیوں ضروری ہے؟ جیل رول 197 کے تحت قیدی کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی، جبکہ نجی ہسپتال میں قیدی کا علاج جیل مینول کے خلاف ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ جیل میں تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ معاملہ جیل قوانین کی تشریح سے متعلق ہے اور استفسار کیا کہ قیدیوں کا علاج پمز اور پولی کلینک میں کیوں نہیں ہو سکتا؟
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بہتر علاج کے لیے قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ اگر معاملہ ایسا تھا تو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جاتی، اس مقدمے میں فریق کیوں نہیں بنے؟ وکیل نے جواب دیا کہ مذکورہ مقدمہ آئینی درخواست کے ذریعے دائر کیا گیا تھا اور اس کے خلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت میں کی جا سکتی ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ وکیل جیل مینول کی بنیاد پر دلائل دے رہے ہیں، اگر جیل مینول پر عمل نہیں کرنا تو پھر اس کا فائدہ کیا ہے؟ ان کے مطابق ہر قیدی کے لیے الگ طریقہ کار اختیار نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا جبکہ 3 قیدیوں کی اپیلوں پر دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کیے گئے۔ بعدازاں طبی سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔



