وفاقی آئینی عدالت سے خیبرپختونخوا حکومت کو بڑا ریلیف مل گیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا میں نگران دور حکومت میں کی گئی بھرتیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا۔بھرتیوں کے خلاف موجودہ صوبائی حکومت کا موقف درست قرار دے کر نگران حکومتوں کا اختیار بھی واضح کر دیا گیا۔

جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومتوں کا بنیادی کام صرف روزمرہ کے سرکاری امور چلانا ہوتا ہے اور وہ مستقل نوعیت کے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومت کبھی بھی منتخب حکومت کے ہم پلہ اختیارات کی حامل نہیں ہوتی اور اس کے ہر اقدام کے لیے الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق ملازمین کی بھرتی مستقل نوعیت کا عمل ہے جسے عارضی یا روزمرہ امور کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخواہ ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 کو آئین اور بنیادی حقوق کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی قانون سے چند افراد کا متاثر ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ قانون بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی خیبرپختونخوا اسمبلی کو قانون سازی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے برطرف ملازمین کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کر دیں۔

خیبرپختونخوا کی نگران حکومت نے اپنے دور میں درجہ چہارم کے متعدد ملازمین کو مستقل بنیادوں پر بھرتی کیا تھا۔ عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی پی ٹی آئی حکومت نے ان بھرتیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملازمین کو برطرف کر دیا تھا جس کے خلاف متاثرہ ملازمین نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button