چکوال:پولیس مقابلے میں بچی کی مبینہ موت پراہلکارکیخلاف قتل کا مقدمہ درج
چکوال(جانوڈاٹ پی کے)پنجاب کے شہر چکوال میں2ملزم کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ(سی سی ڈی)چکوال کیساتھ مبینہ مقابلے میں مارے گئے جبکہ سی سی ڈی کے ایک اہلکارکو نابالغ لڑکی کے قتل اور اس کے بھائی اور والد کو زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔
ذرائع نے کہاکہ39سالہ عدیل احمد،انکی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان،9سالہ بیٹی ہانیہ احمداور10سالہ بیٹا عفان احمد ڈکیتی کے دوران اس وقت حملے کی زد میں آئے جب سی سی ڈی پولیس والوں نے ڈاکو سمجھ کر ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ہانیہ موقع پر جاں بحق جبکہ عدیل اور عفان شدید زخمی ہو گئے،ڈاکٹر سدرہ خان محفوظ رہیں۔
دونوں ڈاکو اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے،ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں سی سی ڈی اہلکار کیخلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا لیکن بعد میں ایف آئی آر میں ترمیم کرکے دفعہ302کا اضافہ کیا گیا جس کے تحت اہلکار کی گرفتاری عمل میں آئی۔جمعرات کی رات دونوں ڈاکو سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے،ان کی شناخت شاہدرہ کے رہائشی محمد عباس اور فیروزوالاکےرہائشی محمد فیاض کے نام سے ہوئی۔سی سی ڈی کے سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ دونوں ڈاکو ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھے، ہلاک ڈاکو آسٹریلیا کے شہری خاندان کو لوٹتے ہوئے سی سی ڈی کے اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملوث تھے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ڈاکو پنجاب کے مختلف علاقوں میں ایک درجن سے زائد وارداتوں میں ملوث تھے اور ماضی میں بھی ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ محمد عباس 2021 میں چکوال میں ڈکیتی کی دو وارداتوں میں بھی ملوث تھا۔انہوں نے 3 جون کو گوجرانوالہ میں سی سی ڈی پولیس اہلکار کو گولی ماری، 6 جون کو شیخوپورہ میں ایک شخص سے موٹر سائیکل چھین لی اور چکوال آتے ہوئے کھیوڑہ میں دکاندار کو لوٹا۔اہلکار نے بتایا کہ چکوال پہنچنے کے بعد ڈاکو چکوال-چوہ ساہ روڈ پر سوتوال گاؤں کے قریب مسجد میں ٹھہرے۔اہلکار نے مزید کہا عباس اپنے ساتھی فیاض کی بیوی بن کر واردات کرتا تھا،دونوں ڈاکو بطور میاں بیوی کے بھیس میں دن کے وقت اپنے اہداف کی نشاندہی کرتے اور پھر رات کو واردات کرتے تھے۔
پولیس ذرائع اور خاندان کے ارکان نے بتایا تھا کہ گاؤں ڈھڈیال کا رہنے والا 39 سالہ آسٹریلوی شہری عدیل احمد حال ہی میں اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، بیٹے عفان احمد اور بیٹی ہانیہ احمد کے ساتھ پاکستان آیا۔
پاکستان پہنچنے کےبعدیہ جوڑا حج پر گیااور بدھ کی صبح سعودی عرب سے واپس آیا، عدیل کے سسر نے اپنی دونوں بیٹیوں کے اہلخانہ کیلئے عشائیہ کا اہتمام کیا۔عدیل رات کا کھانا کھانے کے بعد11بجکر40منٹ پر اپنے سسر کے گھرسے نکلا،اس کی بیوی اپنے ماموں سے ملنا چاہتی تھی،جن کا گھر سی سی ڈی اسٹیشن سے ملحق ہے۔
علی اعجاز نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنی کرائے کی کار میرے گھر کے سامنے روکی تو دو ڈاکو موٹر سائیکل پر آئے، ایک ڈاکو جس کے پاس پستول تھا گاڑی کے پاس آیا اور عدیل اور سدرہ سے کہا کہ وہ اپنے زیورات اور نقدی حوالے کر دیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس کی بھانجی نے ڈاکو کو اس کے زیورات دیے جن کی مالیت 500,000روپے تھی، جیسے ہی ڈاکو زیورات لے گیا، اسے سی سی ڈی کے ایک اہلکار نے دیکھا جو باہر کھانا کھا کر اسٹیشن واپس آ رہا تھا۔اس کے بعد پولیس اہلکار اسٹیشن پر پہنچا اور ایک کانسٹیبل سے ایس ایم جی بندوق چھینی اور ڈاکوؤں پر فائرنگ کر دی جس پر انہوں نے بھی جوابی فائرنگ کی۔دونوں ڈاکو اپنی موٹر سائیکل موقع پر چھوڑ کر فرار ہو گئے،فائرنگ کے بعد عدیل نے بھی گاڑی چلادی۔پولیس اہلکار نے بتایا کہ جیسے ہی پولیس والوں نے گاڑی کو فوراً بھگاتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے گاڑی کو ڈاکوؤں کی ملکیت سمجھا اور کار پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
سی سی ڈی اہلکاروں نے موٹرسائیکلوں پر کار کا پیچھا بھی کیا لیکن وہ اسے نہ پکڑ سکے کیونکہ عدیل نے گاڑی تیز رفتاری سے چلائی اور اپنے سسر کے گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جہاں اس کا گاڑی پر کنٹرول ختم ہو گیا اور کار گیٹ سے ٹکرا گئی۔
گاڑی ٹکرانے کے باعث وہ بھی بری طرح زخمی ہوا، زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی بیٹی ہانیہ کو مردہ قرار دیا گیا جبکہ عدیل اور اس کے بیٹے عفان کو بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی ریفر کر دیا گیا جہاں دونوں کا آپریشن کیا گیا۔
سی سی ڈی کے ریجنل آفیسر راولپنڈی حسن جہانگیر وٹو اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کاشف ذوالفقار نے لواحقین سے ملاقات کی اور قصورواروں کیخلاف فوری قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ڈی پی او نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے،جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے جو جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔دوسری طرف فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار کو جوڈیشل ریمانڈ پر عدالت بھیج دیا گیا ہے۔



