عالمی ایندھن بحران کے اثرات، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں سمندری تنازع کے حل کیلئے دباؤ میں اضافہ

کمبوڈیا (ویب ڈیسک) ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران نے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان سمندری تنازع کے حل کیلئے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی جلد حل ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کمبوڈیا کے وزیر توانائی کیو روٹانک نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی تیل بحران نے توانائی کے تحفظ کو دنیا بھر کے ممالک کیلئے ایک اہم اور فوری مسئلہ بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان خلیجِ تھائی لینڈ میں تقریباً 27 ہزار مربع کلومیٹر سمندری علاقے پر دہائیوں سے تنازع جاری ہے، جہاں اندازاً 11 کھرب مکعب فٹ قدرتی گیس اور بڑی مقدار میں تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 300 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
کمبوڈین وزیر کے مطابق عالمی توانائی کمپنیاں، جن میں ٹوٹل انرجیز سمیت دیگر ادارے شامل ہیں، اس علاقے میں آف شور تیل و گیس منصوبوں میں دلچسپی رکھتی ہیں، تاہم اس کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا حل ناگزیر ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تھائی لینڈ نے حال ہی میں مشترکہ توانائی تلاش کے 25 سالہ پرانے معاہدے کو ختم کر دیا ہے، جس کے بعد کمبوڈیا اب اقوام متحدہ کے سمندری قانون (UNCLOS) کے تحت اس تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع طویل ہوا تو خطے میں سرمایہ کاری اور توانائی کے منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



