کمبوڈیا میں متعدد پاکستانیوں کے بے یارو مددگار قید ہونے کا انکشاف، سفارتی کوششوں سے جلد واپسی کا امکان

کمبوڈیا(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی و انسانی حقوق کے سربراہ آغا رفیع اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ کمبوڈیا میں متعدد پاکستانی انتہائی نامساعد حالات میں بے یار ومددگار قید ہیں۔
چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی و انسانی حقوق سید آغا رفیع اللہ نے سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ کو مراسلے میں کمبوڈیا میں قید پاکستانیوں کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کمبوڈیا کی جیلوں میں کئی پاکستانی شہری انتہائی نامساعد حالات میں قید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کمبوڈیا میں محبوس پاکستانیوں کی رہائی کے لیے فوری سفارتی اقدامات کرے اور سیکرٹری خارجہ کو بھیجے گئے اپنے خط میں انہوں نے ان پاکستانی شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے اورکمبوڈیا میں قید پاکستانیوں کی ویڈیوز کے حوالے سے سیکریٹری خارجہ کو آگاہ کر دیا،۔
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کا مصالحتی کردار قابل ستائش ہے، عالمی امن کے لیے حکومت پاکستان کی کوششیں خوش آئند ہیں۔
دفترخارجہ کے ترجمان نے کمبوڈیا میں زیر حراست پاکستانیوں کے متعلق میڈیا کے سوالات پر بیان میں کہا کہ کمبوڈیا میں پاکستانی سفارت خانے نے مقامی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے تمام مشنز کو نائب وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کو سہولت فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کمبوڈیا کے حکام نے صوبہ سیمریپ میں زیر حراست 54 پاکستانی شہریوں کی جلد وطن واپسی پر رضامندی ظاہر کی ہے، ان افراد کو اسکامنگ کمپاوٴنڈ پر چھاپے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سفارت خانے کا عملہ زیرحراست پاکستانیوں کی فلاح و بہبود یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، یہ قیدی پرواز کے انتظامات ہوتے ہی کمبوڈیا چھوڑ دیں گے۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق کمبوڈیا جذبہ خیرسگالی کے طور پرقیدیوں کو قانونی کارروائی کے بغیر "لا آن کمبیٹنگ آن لائن سکیمز” کے تحت واپس بھیجے گا۔



