تھر کول پاور پلانٹ میں مزدور کی ہلاکت، اہل خانہ کا سویپر سے خطرناک بوائلر ڈیوٹی لینے کا الزام

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی) تھر کول بلاک ون کی شنگھائی کمپنی کے پاور پلانٹ میں دورانِ کام جاں بحق ہونے والے آڈے جو تڑ کے نوجوان اومیش بھیل کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ بطور سویپر ملازم تھا اور اس کی ماہانہ تنخواہ 30 ہزار روپے تھی، تاہم اس سے مبینہ طور پر زبردستی بوائلر سیکشن میں کام لیا جا رہا تھا۔
متوفی کے اہل خانہ نے تھر کول بلاک ون کی شنگھائی کمپنی پاور پلانٹ انتظامیہ پر غفلت اور لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک غیر تربیت یافتہ اور ناتجربہ کار سویپر سے خطرناک نوعیت کا کام لیا گیا، جبکہ اسے حفاظتی کٹ اور سیفٹی بیلٹ سمیت ضروری حفاظتی سامان بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق نوجوان کو سویپر کی ملازمت پر 30 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی تھی، مگر اس سے بوائلر کا کام لیا جا رہا تھا، جہاں ملازمین کی تنخواہیں عموماً 60 سے 70 ہزار روپے ماہانہ ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی انتظامیہ نے ان کے ساتھ ظلم کیا اور 13 افراد پر مشتمل خاندان کا واحد کفیل ان سے چھین لیا۔ اہل خانہ نے مزید الزام لگایا کہ لاش انہیں ایک تھیلے میں خراب حالت میں دی گئی۔
متوفی کے ورثا کے مطابق انہوں نے آٹھ گھنٹے تک احتجاجی دھرنا دیا، جو رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی مداخلت کے بعد ختم ہوا۔
اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں نہ ڈاکٹر مہیش ملانی اور نہ ہی کسی اور منتخب نمائندے نے ان سے رابطہ کیا، جبکہ تھر کول انتظامیہ نے بھی کوئی مالی یا اخلاقی مدد فراہم نہیں کی۔
ورثا نے مطالبہ کیا ہے کہ تھر کول بلاک ون شنگھائی پاور پلانٹ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
واضح رہے کہ اومیش بھیل گزشتہ ہفتے دورانِ کام بوائلر میں گرنے کے باعث جاں بحق ہوگیا تھا۔ واقعے کے بعد اہل خانہ نے لاش کے حصول کے لیے تھر کول بلاک ون کے گیٹ پر احتجاجی دھرنا دیا تھا، جو بعد میں ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی مداخلت پر ختم ہوگیا۔



