ماتلی: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ کٹوتیوں اور رشوت کے مطالبے پر متاثرہ خواتین کا احتجاج

ماتلی (رپورٹ ایم آر گدی جانوڈاٹ پی کے) سندھ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جو غریب، مسکین، بیواؤں، معذور اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے مستحق افراد کی مالی معاونت کے لیے شروع کیا گیا تھا، مبینہ طور پر کٹوتی اور غیرقانونی رقوم کی وصولی کے الزامات کی زد میں آ گیا ہے، اس حوالے سے متاثرہ خواتین نے ماتلی پریس کلب پہنچ کر شدید احتجاج کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ولٹ سسٹم کے تحت نئے سروے اور سم کے اجرا کے نام پر ان سے 1500 سے 2000 روپے فی خاتون بطور “خرچی” طلب کیے جا رہے ہیں، جس پر وہ شدید ذہنی و مالی اذیت کا شکار ہیں، متاثرہ خواتین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دور دراز علاقوں سے بار بار دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں مگر ان کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور مبینہ طور پر ہر مرحلے پر غیرقانونی رقوم طلب کی جا رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں انہیں یہ اندازہ نہیں کہ ہم غربت، مجبوری اور بےبسی کی کس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں، ہمارا پورا دن صرف اس کوشش میں گزر جاتا ہے کہ کسی طرح ہمارے نام کا اندراج ہو جائے تاکہ ہمارے بچوں کے لیے کچھ سہارا بن سکے مگر اب ہمارے ہی حق پر مبینہ طور پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے، خواتین نے الزام عائد کیا کہ غریبوں کے لیے بنائے گئے اس فلاحی پروگرام میں ہی مبینہ طور پر کٹوتی مافیا سرگرم ہے جس نے مستحق افراد کو مزید مشکلات میں دھکیل دیا ہے، انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، دوسری جانب پروگرام سے منسلک بعض ذرائع اور مؤقف کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کسی بھی مرحلے پر کوئی فیس یا خرچہ وصول نہیں کیا جاتا اور اگر کہیں ایسی شکایات سامنے آتی ہیں تو وہ غیرقانونی عمل ہے جس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، شہریوں، سماجی حلقوں اور ماتلی کی منتخب قیادت نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی و تعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر معاملے کی مکمل چھان بین کرے اور مبینہ طور پر سرگرم عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لا کر مستحق خواتین کو ان کا حق شفاف طریقے سے دلایا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button