کیوبا میں ممکنہ فوجی کارروائی، امریکی فوج نے معاون یونٹس کی دستیابی جانچنا شروع کردیں، رپورٹ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کیوبا سے متعلق ممکنہ کارروائی کے لیے ابتدائی فوجی منصوبہ بندی کررہی ہے اور مختلف معاون یونٹس کی دستیابی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی آرمی ریزرو نے ایک اندرونی پیغام کے ذریعے ماتحت کمانڈز سے ایسے یونٹس کی دستیابی سے متعلق معلومات طلب کی ہیں جو آئندہ 90 سے 120 دن کے دوران امریکی سدرن کمانڈ کے تحت فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ دستاویز میں کیوبا کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم متعدد امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ یہ درخواست کیوبا سے متعلق جاری فوجی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔
دستاویز میں چھ مختلف اقسام کے یونٹس کی ممکنہ دستیابی کے بارے میں معلومات طلب کی گئی ہیں، جن میں لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ، انجینئرنگ، طبی خدمات اور ملٹری پولیس سے متعلق یونٹس شامل ہیں۔ امریکی سدرن کمانڈ وسطی و جنوبی امریکا اور کیریبین خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اب تک کسی فوجی یونٹ کو کیوبا یا کسی دوسرے مقام پر تعیناتی کا حکم نہیں دیا گیا، جبکہ دستاویز میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ممکنہ طور پر فورسز کہاں بھیجی جائیں گی یا انہیں کس نوعیت کے آپریشن میں استعمال کیا جائے گا۔
سی بی ایس نیوز کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی ماہر برائن فونسیکا نے اس نوعیت کی سرگرمی کو فوجی منصوبہ بندی کی مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے لازماً حملے یا فوجی کارروائی کے حتمی حکم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔



