اگرآزادکشمیر کے انتخابات چوری کیے تو وفاقی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوجائےگی، بلاول بھٹو

مظفرآباد(جانوڈاٹ پی کے)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کو دھمکی دی ہےکہ اگر آزادکشمیر کے انتخابات چوری کیے تو لکھ لیں آپ کی وفاقی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوجائےگی۔
مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ ن لیگ آزادکشمیر میں صاف شفاف انتخابات کرائے، وعدہ ہے وفاقی حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کرنا جانتے ہیں اور اس کا تحفظ کریں گے، کشمیر کے مہاجرین کے مسائل ہیں، اگر ان کا ووٹ چوری ہوگا تو ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے، مستقبل کا فیصلہ کرنے والے اداروں میں کشمیر کی کرسی ہونی چاہیے،کشمیریوں کو تمام حقوق دلوائیں گے ، حکومت کشمیر کے مسائل پر ٹُرتھ کمیشن بنائے ۔
بلاول کا کہنا تھا کہ میں نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ راولاکوٹ میں الیکشن نہیں ہوسکتا، یہاں احتجاج وہاں احتجاج چاہتےکیا ہیں ؟ کیا آپ چاہتے ہیں میرپور اور مظفرآباد میں بھی پیپلزپارٹی کے کارکن احتجاج کریں؟ ادھر بھی احتجاج ہو یہاں بھی احتجاج ہو تب مزہ آئے گا آپ کو؟ الیکشن کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہیے، بلٹ سے نہیں، ووٹ کی چوری کو کسی صورت نہ چھپایا جائے، حق حاکمیت کامطلب ہے جس کےحق میں ووٹ ڈالا جائے اسی کا ووٹ نکلے،کشمیر کافیصلہ کشمیر کے عوام کریں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی حقیقی نمائندگی محفوظ رہنی چاہیے، کشمیری مہاجرین ہمارے وجود، تاریخ اور تحریک کا حصہ ہیں، ہم نے میرپور اور مظفرآباد میں انٹرنیٹ کھلوایا ہے، پونچھ میں بھی انٹرنیٹ کھلوائیں گے، ن لیگ کے دوست کہتےہیں کہ وہ کشمیرکوبسیں دیں گے اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، لاہور میں جوآپ نےکام کیا ہے وہ تو ماشااللہ، یہاں کے عوام پوچھیں گے آپ نے مظفرآباد میں کیا کیا؟ مظفرآباد کےعوام تو جانتے ہیں آپ کو، سی ایم ایچ فلائی اوورکی کہانی معلوم ہےناں، یہ جوکراچی کے یونیورسٹی روڈ کا ذکر کرتےہیں ان کو بتائیں ن لیگ نے 2020 میں 200 فٹ کے پل کا آغازکیا تھا کیا وہ آج تک مکمل کیا؟
بلاول کا کہنا تھا کہ ن لیگ والوں نے اس الیکشن کو زندگی موت کا سوال بنادیا ہے، سوچ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر میں شکست کا مطلب وفاق میں حکومت کی الٹی گنتی شروع، میرا وعدہ ہے آزاد کشمیر میں صاف اور شفاف انتخابات کروائیں، وفاقی حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اگرمیرا مینڈیٹ چوری کیا تو میں آپ کے تخت کے لیے آجاؤں گا، ہم پیپلزپارٹی والے ہیں پی ٹی آئی کے ممی ڈیڈی والے نہیں ہیں، ہمارے پاس جیالے ہیں جنہوں نے ضیاالحق اور مشرف کا مقابلہ کیا اور شیرکے شکارکے ماہر ہوچکے ہیں، آپ یہ نہ سمجھیں آپ کو یہ دھاندلی کرنے دیں گے، انصاف کریں توآپ کے ساتھ بھی انصاف کریں گے دھاندلی کریں گے توآپ کی خیر نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ سیاست کرنا شروع کریں اور بائیکاٹ کی سیاست چھوڑیں، پی ٹی آئی والے الیکشن، پارلیمنٹ ،کمیٹیوں، اپنےکام اور جدوجہد سے بائیکاٹ کرتے ہیں، پی ٹی آئی والوں کو بائیکاٹ ہی کرنا تھا توگھر ہی بیٹھ جاتے، پی ٹی آئی والے بائیکاٹ نہیں الیکشن لڑیں، اپنا ہاتھ پی ٹی آئی کےسنجیدہ سیاستدانوں کی طرف بڑھا رہا ہوں، ہم وہ سیاسی جماعت ہیں جوالیکشن میں دھاندلی سے تنگ آچکے ہیں، ہر وہ سیاسی کارکن جواپنا فیصلہ خود کرنا چاہتا ہے آئے میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھامے۔



