بدین بارایسوسی ایشن کی عمارت میں گہری دراڑیں، 400 سے زائد وکلا اور سائلین کی جانیں خطرے میں،بارعہدیداروں کا فوری نوٹس کا مطالبہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/پی کے)بدین بار ایسوسی ایشن کی عمارت خطرناک قرار، گہری دراڑیں، 400 سے زائد وکلا اور سائلین کی جانیں خطرے میں ناقص تعمیر اور بدعنوانی کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے، بصورت دیگر عدالتی بائیکاٹ اور احتجاجی تحریک چلائیں گے، بار رہنماؤں کی پریس کانفرس تفصیل کے مطابق محکمہ پروونشنل بلڈنگز بدین  ٹھٹھہ کی جانب سے ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ بدین کے احاطے میں تعمیر کی گئی بدین بار ایسوسی ایشن  کی عمارت میں گہری دراڑیں پڑنے کے باعث کسی بھی وقت بڑے جانی نقصان کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ روزانہ سینکڑوں وکلا، عدالتی عملے اور سائلین کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ بار ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ ناقص تعمیر اور مبینہ بدعنوانی کے باعث عدلیہ سے وابستہ افراد بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں بدین بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ احسان بھرگڑی، جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ اصغر چانگ، ایڈووکیٹ محمد رفیق اور دیگر نے بار روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمارت انتہائی خستہ حال ہو چکی ہے اور اس میں پڑنے والی گہری دراڑیں کسی بھی وقت المناک حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عمارت کے اندر بیٹھنا بھی خطرے سے خالی نہیں، جبکہ روزانہ 400 سے زائد وکلا، عدالتی ملازمین اور سائلین اس عمارت میں آتے ہیں انہوں نے بتایا کہ مذکورہ عمارت 2015ء میں تعمیر کی گئی تھی، تاہم تعمیر کے دوران ہی وکلا نے ناقص تعمیراتی سامان کے استعمال پر اعتراضات اٹھائے تھے اور متعلقہ افسران کو تحریری طور پر آگاہ بھی کیا گیا تھا، لیکن ان خدشات کو نظر انداز کر دیا گیا، جس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں بار رہنماؤں کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام کو متعدد بار تحریری درخواستیں ارسال کی گئیں، مگر آج تک نہ تو عمارت کا تکنیکی معائنہ کرایا گیا اور نہ ہی اس کی مرمت یا نئی تعمیر کے لیے کوئی عملی اقدام کیا گیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ بلڈنگز کے ذمہ دار افسران، متعلقہ ٹھیکیدار اور تعمیراتی کام میں مبینہ بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور احتسابی اداروں کے ذریعے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے سیشن جج بدین سے بھی معاملے کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی بار رہنماؤں نے سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور حکومت سندھ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بدین بار ایسوسی ایشن کی عمارت کے مسئلے پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بدین کی عدالتوں کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا، ہر جمعہ اور ہفتہ عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا، جبکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں نئی اور محفوظ عمارت کی تعمیر تک مکمل عدالتی بائیکاٹ اور احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔

مزید خبریں

Back to top button