بدین،حیدرآباد اور ٹنڈو محمد خان ریلوے سیکشن توسیعی منصوبے سے باہر، 70لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان ریلوے نے حیدرآباد،ٹنڈو محمد خان،بدین ریلوے سیکشن کو 100 ارب روپے کے ملک گیر ریلوے توسیعی منصوبے سے خارج کردیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 70 لاکھ افراد اور بدین کینٹ کے فوجی جوان سفری سہولیات سے محروم رہ جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے نے ملک بھر میں 18 برانچ لائنوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبے کی منظوری تو دے دی ہے، تاہم 1905 میں برطانوی دور میں تعمیر ہونے والے بدین، تلہار، ماتلی، ٹنڈو محمد خان اور حیدرآباد ریلوے سیکشن کو اس منصوبے میں شامل نہیں کیا گیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق یہ ریلوے لائن سندھ کے تین اضلاع بدین، ٹنڈو محمد خان اور حیدرآباد کی لاکھوں آبادی کے لیے اہم سفری سہولت تھی جو طویل عرصے سے غیر فعال ہے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے دور میں اس سیکشن کو 15 کروڑ روپے کی لاگت سے اپ گریڈ کیا گیا تھا، تاہم مبینہ طور پر ٹرانسپورٹرز اور ریلوے حکام کے گٹھ جوڑ کے باعث یہ لائن دوبارہ بند کردی گئی۔
بدین شہری اتحاد کے رہنماؤں طارق عزیز میمن، عاشق حسین خواجہ، اور تاجر الائنس کے رہنماؤں محمد حسن میمن اور مختیار حسین خواجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے سیکشن کی بندش سے بدین، کراچی اور حیدرآباد کے عوام اور تاجر برادری شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سیکشن پر بدین کینٹ کے فوجی جوان بھی سفر کرتے رہے ہیں، جو اب متبادل ذرائع پر مجبور ہیں۔
رہنماؤں نے صدرِ پاکستان، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ سندھ اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بدین،حیدرآباد ریلوے لائن کو فی الفور اپ گریڈ کرکے فعال کیا جائے اور عوام کو ریلوے سفری سہولت واپس دی جائے، تاکہ بڑھتی ہوئی مایوسی کا خاتمہ ہوسکے۔



