پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران گرفتار کارکنوں کو بڑا عدالتی ریلیف، انسداد دہشت گردی عدالت نے مقدمات سے ڈسچارج کر دیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے تناظر میں گرفتار تمام کارکنوں کو مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کے وکلا سردار محمد مصروف، مرتضیٰ طوری اور زاہد بشیر ڈار ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے کارکنوں کی شناخت پریڈ کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست دائر کی۔ اس پر وکیل سردار محمد مصروف نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو گرفتار ہوئے 40 روز سے زائد گزر چکے ہیں، لیکن پولیس ہر سماعت پر التوا کی درخواست کر رہی ہے اور کارکنوں کو عدالت میں پیش بھی نہیں کیا جا رہا۔
وکیل مرتضیٰ طوری نے کہا کہ تمام کارکن بے گناہ ہیں اور انہیں جان بوجھ کر گرفتار کیا گیا۔ ان کا الزام تھا کہ پولیس جب چاہتی ہے کسی شخص کو گرفتار کرکے اسے پی ٹی آئی کا کارکن قرار دے دیتی ہے۔
وکیل زاہد بشیر ڈار نے بھی عدالت سے استدعا کی کہ گزشتہ سماعت کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، کیونکہ ان کے مطابق گرفتار کارکن بے گناہ ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے وکلا کی استدعا منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے تمام گرفتار کارکنوں کو متعلقہ مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کو تھانہ شالیمار اور تھانہ سیکریٹریٹ میں درج مقدمات کے سلسلے میں شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا تھا۔



