طالبان سے روابط پر یورپی یونین کو عالمی حقوق تنظیموں کی تنقید، خواتین اور آزادیوں کی صورتحال پر تشویش

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے افغانستان کی طالبان حکومت سے روابط پر یورپی یونین کو خبردار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے سخت گیر اقدامات اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر عالمی ادارے اور حقوق کی تنظیمیں مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے یورپی یونین اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے باوجود اس کے ساتھ روابط رکھے گئے۔ تنظیم کے مطابق افغانستان میں میڈیا کی آزادی، سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ طالبان نے خواتین کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندیاں عائد کیں، جبکہ روزگار اور نقل و حرکت کے مواقع بھی محدود کیے گئے۔ تنظیم نے کہا کہ طالبان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت اور عملی روابط کے درمیان تضاد نظر آتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لاسن نے بھی طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے دور کر دیا گیا ہے اور ان کی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔

عالمی اداروں کے بیانات کے بعد ایک بار پھر افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور طالبان حکومت کے ساتھ عالمی برادری کے تعلقات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button