اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکا کے ایران پر نئے حملے، سینٹکام کی آٹھویں مسلسل کارروائی کا دعویٰ

تہران / واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے مختلف علاقوں میں مسلسل آٹھویں رات فضائی کارروائیاں کرنے کا اعلان کیا، جبکہ ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایران کے متعدد علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔

ایرانی حکام اور سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی حملوں میں خوزستان اور ہرمزگان صوبوں کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

خوزستان کے گورنر آفس کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 55 منٹ پر شادگان کے قریب ایک مقام پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نقصان کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر جزیرہ قشم کے مختلف علاقوں پر بھی امریکی فضائی حملے کیے گئے، جہاں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چند گھنٹے قبل بھی قشم کے دیگر مقامات پر میزائل داغے گئے تھے، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جزیرے کے نواح میں کم از کم چھ میزائل گرے۔

اسی دوران ہرمزگان کے حکام نے بتایا کہ سریک کے قریب بھی امریکی حملہ کیا گیا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا نقصانات کی نوعیت کے بارے میں کوئی باضابطہ معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس اور بندر لنگہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ دونوں بندرگاہی شہر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہونے کے باعث اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ صدر کے حکم پر 18 جولائی کی رات ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کیا گیا۔

سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں میں ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں، اور میزائل و ڈرون ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید محدود کیا جا سکے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے وابستہ ان فورسز کو بھی نشانہ بنایا گیا جن پر 17 جولائی کو اردن میں امریکی فوجیوں پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سینٹکام نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مختلف مقامات پر تعینات ہیں اور وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button