ایران کے حملوں میں اردن میں 2 امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی ہوئے، امریکی اخبار

نیویارک(ویب ڈیسک) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ روز کے دوران ایران نے اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر چار بڑے حملے کیے، جن کے نتیجے میں 2 امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی ہوئے جبکہ کئی فوجی ہیلی کاپٹروں کو بھی نقصان پہنچا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ان مسلسل حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پاس میزائلوں کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے اور اس کی امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکما دینے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلا حملہ کنگ فیصل ایئر بیس کی رہائشی عمارت پر کیا گیا، جس میں کم از کم پانچ امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ اس کے بعد مشرقی اردن میں واقع ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر موجود تھے، اور حملے میں متعدد ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق بعد ازاں ایرانی میزائلوں نے الازرق (موافق السلط) ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جہاں بنکروں میں پناہ لینے والے تقریباً 20 امریکی فوجی زخمی ہوئے، تاہم اس حملے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز اسی ایئر بیس پر ایک اور حملہ کیا گیا، جس میں 2 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 4 دیگر زخمی ہوئے۔ کچھ اہلکار معمولی زخمی ہوئے جنہیں طبی معائنے کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی تصدیق کی ہے کہ 17 جولائی کو اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران 2 امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ایک امریکی فوجی تاحال لاپتا ہے۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب اس سے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے اردن میں الازرق ایئر بیس کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جہاں ان کے بقول 2 فائٹر جیٹس، 3 امریکی طیارے، فائٹر جیٹ شیلٹرز اور پارکنگ ریمپس کو تباہ کیا گیا۔



