ٹھٹھہ کے جنگلات خطرے میں؟ غیر قانونی درختوں کی کٹائی پر تشویش، کارروائی کا مطالبہ

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے)زیریں سندھ، بالخصوص ضلع ٹھٹھہ کے جنگلات میں مبینہ طور پر غیر قانونی درختوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری رہنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف اوقات میں اس مسئلے کو اجاگر کیے جانے کے باوجود ٹھٹھہ اور زیریں سندھ کے دیگر اضلاع میں جنگلات سے درختوں کی کٹائی بدستور جاری ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ روزانہ بڑی تعداد میں لکڑی سے لدے ٹرک کراچی کی جانب روانہ ہوتے ہیں، تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔
رپورٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس مبینہ غیر قانونی سرگرمی میں ٹمبر مافیا کے ساتھ بعض متعلقہ افراد کی مبینہ سرپرستی بھی شامل ہے۔ تاہم ان الزامات کی متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق جنگلات کی مسلسل کٹائی سے موسمیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) کے اثرات میں اضافہ، ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی عدم توازن اور گرمی کی شدت میں مزید اضافہ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایک جانب جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کے حوالے سے سرکاری سطح پر آگاہی مہمات جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب جنگلات کی مبینہ غیر قانونی کٹائی پر مؤثر کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مقامی حلقوں نے صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ جنگلات سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے اگر غیر قانونی کٹائی ہو رہی ہے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔



