امریکا کے ایران پر حملے: 30 سے زائد عام شہری اور 7 فوجی جاں بحق، 260 سے زائد زخمی

تہران(ویب ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بھڑکنے والی کشیدگی کے پانچویں روز صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری اور 7 ایرانی فوجی جاں بحق جبکہ 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں جانی نقصان کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور جنوبی ایران کو ملک کا "دھڑکتا ہوا دل” قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے بتایا کہ جنوب مشرقی ایران کے بمپور گیریژن پر امریکی میزائل حملے میں 388 ویں بریگیڈ کے 7 اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ایرانی فوج نے حملے کو "بزدلانہ جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ کن جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق بمپور کی فوجی بیرکوں پر 13 میزائل داغے گئے، جن سے گیسٹ ہاؤس، گارڈ پوسٹس اور رہائشی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا، تاہم ایرانی دفاعی اقدامات کے باعث ممکنہ جانی نقصان کو محدود رکھا گیا۔
ایران کی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور کے مطابق امریکی حملوں میں 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 222 افراد کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے اور متعدد فوجی اہداف پر حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔



