گرمی سے بچاؤ کےمشہور’ٹوٹکے’،کونسے فائدہ منداورکونسے نقصاندہ؟

گرمی کے موسم میں عام سمجھی جانے والی کئی احتیاطیں درحقیقت غلط فہمی ثابت ہوئیں، ماہرین نے درست حقائق بھی بتا دیے۔شدید گرمی کے دوران لوگ خود کو سورج کی تپش اور ہیٹ ویو سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف مشوروں اور گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرتے ہیں، مگر ان میں سے کئی تصورات حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے۔ ماہرین کے مطابق ایسی غلط فہمیوں پر بھروسا بعض اوقات فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
سن اسکرین لگانے کے بعد دیر تک دھوپ میں رہنا محفوظ نہیں
سن اسکرین جلد کو سورج کی مضر بالائے بنفشی شعاعوں سے بچانے میں مدد ضرور دیتی ہے، لیکن اسے مکمل تحفظ سمجھنا غلط ہے۔ بہت سے لوگ سن اسکرین کم مقدار میں لگاتے ہیں، جسم کے بعض حصے نظر انداز کر دیتے ہیں یا وقت پر دوبارہ استعمال نہیں کرتے۔ اسی لیے سن اسکرین کے ساتھ تیز دھوپ سے بچنا، مناسب لباس پہننا اور ممکن ہو تو سایہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔
سایہ بھی ہر وقت مکمل حفاظت فراہم نہیں کرتا
اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ درخت یا چھتری کے نیچے بیٹھنے سے سورج کی شعاعوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا، حالانکہ بالائے بنفشی شعاعیں پانی، ریت، کنکریٹ اور دیگر سطحوں سے منعکس ہو کر جلد تک پہنچ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ساحل یا سوئمنگ پول کے قریب صرف سایہ سن برن سے مکمل حفاظت کی ضمانت نہیں ہوتا۔
سن اسکرین وٹامن ڈی کی پیداوار نہیں روکتی
یہ تاثر بھی درست نہیں کہ سن اسکرین استعمال کرنے سے جسم میں وٹامن ڈی بننا بند ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی محدود دھوپ میں بھی جسم اپنی ضرورت کے مطابق وٹامن ڈی پیدا کر لیتا ہے، البتہ مختلف جلد رکھنے والے افراد میں اس کے لیے درکار وقت مختلف ہو سکتا ہے۔ غیر ضروری طور پر زیادہ دیر دھوپ میں رہنا جلد کے کینسر اور قبل از وقت بڑھاپے کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ایلو ویرا سن برن کا مکمل علاج نہیں
اگرچہ ایلو ویرا متاثرہ جلد کو وقتی ٹھنڈک اور سکون فراہم کر سکتا ہے، لیکن یہ سورج سے ہونے والے نقصان کو ختم نہیں کرتا۔ سن برن کی صورت میں جلد کو ٹھنڈا رکھنا، وافر پانی پینا، مناسب موئسچرائزر استعمال کرنا اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے مشورے سے درد کم کرنے والی دوا لینا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔
برف والے مشروبات ہمیشہ جسم کو ٹھنڈا نہیں کرتے
ٹھنڈے مشروبات وقتی طور پر تازگی کا احساس ضرور دلاتے ہیں، لیکن جسم کا درجہ حرارت کم کرنے کا اصل نظام پسینہ ہے۔ بعض حالات میں گرم مشروبات بھی پسینہ بڑھا کر جسم کو ٹھنڈا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ شدید گرمی میں کیفین یا الکحل والے مشروبات زیادہ پینے سے جسم میں پانی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے سادہ پانی کو ترجیح دینی چاہیے۔
کھانے کے فوراً بعد تیراکی کرنا ہمیشہ خطرناک نہیں
یہ تصور بھی سائنسی شواہد سے ثابت نہیں کہ کھانا کھانے کے بعد لازماً 30 منٹ انتظار کیے بغیر تیراکی نہیں کی جا سکتی۔ البتہ اگر کسی نے بہت زیادہ کھانا کھایا ہو تو فوراً پانی میں اترنے سے بے آرامی یا بھاری پن محسوس ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں چند منٹ ہلکی چہل قدمی کرنا زیادہ بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے ہاضمہ بہتر رہتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔



