لاہور میں کمسن گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد، چوری کے الزام پر 11 سالہ بچی کو پائپ سے مارنے والا ملزم گرفتار

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور کے علاقے اچھرہ میں چوری کے الزام پر 11 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق اچھرہ کے علاقے سے سامنے آنے والی ویڈیو میں ایک شخص کو کمسن بچی پر پلاسٹک کے پائپ سے تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ متاثرہ بچی کی شناخت عروج فاطمہ کے نام سے ہوئی ہے، جسے مبینہ طور پر چوری کے الزام کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اہل علاقہ کے مطابق ویڈیو میں تشدد کرنے والا شخص بچی کا والد بتایا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ گھر کے مالکان کے کہنے پر والد نے اپنی کمسن بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ واقعے کے وقت گھر کے مالکان بھی موجود تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 11 سالہ عروج فاطمہ شاہ جمال کے علاقے میں ایک گھر میں ملازمت کرتی تھی، جہاں مبینہ چوری کے الزام پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اطلاع ملنے پر اچھرہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم قربان کو شاہ جمال سے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے کیس انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کا استحصال اور ان پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، ایسے جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
دوسری جانب لاہور میں گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا ایک اور افسوسناک واقعہ بھی سامنے آیا ہے، جہاں نصیر آباد کے علاقے میں 12 سالہ گھریلو ملازمہ کنیز فاطمہ جاں بحق ہوگئی۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی کنیز فاطمہ کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور وہ گزشتہ ایک ماہ سے صوفی اعجاز کے گھر ملازمت کر رہی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد جاوید نے الزام عائد کیا کہ انہیں فوری طور پر لاہور بلایا گیا، جہاں پہنچنے پر بتایا گیا کہ ان کی بیٹی گلاب دیوی اسپتال میں زیر علاج ہے، تاہم وہاں پہنچنے پر وہ مردہ حالت میں ملی۔
والد نے الزام عائد کیا کہ کوٹھی مالکان نے ان کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد موت کی اصل وجہ اور دیگر حقائق سامنے آئیں گے، جبکہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔



