’’خان کی رہائی کیلئے خانم‘‘کا احتجاج،علی محمدخان کو‘‘موروثیت‘‘پر طنزکرنامہنگاپڑ گیا،اپنی ہی پارٹی نے’’ٹرول‘‘کردیا

پشاور(جانوڈاٹ پی کے)’’خان کی رہائی کیلئے خانم‘‘کا احتجاج،علی محمدخان کو‘‘موروثیت‘‘پر طنزکرنامہنگاپڑ گیا،اپنی ہی پارٹی نے’’ٹرول‘‘کردیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما علی محمد خان کا موروثی سیاست سے متعلق بیان سوشل میڈیا پر نئی بحث کا سبب بن گیا۔ ان کے تبصرے کے بعد ایکس پر متعدد صارفین جن میں خود کو پی ٹی آئی کے حامی قرار دینے والے افراد بھی شامل تھے، نے ان پر تنقید کی۔سوشل میڈیا صارفین نے علی محمد خان کے بیان کو مختلف زاویوں سے دیکھا۔ بعض نے مؤقف اختیار کیا کہ موروثی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے انہیں اپنی جماعت کے اندر موجود معاملات کا بھی خیال رکھنا چاہیے، جبکہ دیگر نے ان کے بیان کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے بیانات سے پارٹی کے اندر اختلافات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب کچھ صارفین نے علی محمد خان کے مؤقف کی حمایت بھی کی اور کہا کہ موروثی سیاست پر بحث کسی ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی سیاسی روایت سے جڑا ہوا موضوع ہے۔اس معاملے کے بعد علی محمد خان کا نام ایکس پر ٹرینڈ کرتا رہا، جہاں ان کے حق اور مخالفت میں بڑی تعداد میں تبصرے کیے گئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا پر سیاسی شخصیات کے بیانات پر فوری عوامی ردعمل اب ملکی سیاست کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

سابق وفاقی وزیر علی محمد خان نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تحریک انصاف میں موروثیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

تحریک انصاف کی رہنما طیبہ راجہ نے اپنے ٹویٹ میں لکھادکھ ہوتا ہے کہ کبھی صرف آپ کی تقریر سن کر ہم نے آپکو لیڈر لیڈر سمجھ لیا تھا۔ خود تو آپ لوگ کچھ کر نا سکے،ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہیںاور عمران خان وہاں 8/10 کے کمرے میں سخت گرمی میں اپنی زندگی قربان کر رہا ہے، اب اسکے گھر سے کوئی صرف ریلی کے لئیے باہر نکلا ہے تو آپ کو موروثیت یاد آگئی۔ حد ہے ویسے اتنا خوف۔ آپ لوگوں نے کچھ کیا ہوتا تو عورتوں کو یہ جنگ لڑنی ہی نا پڑتی،چھوڑیں موروثیت۔

مزید خبریں

Back to top button