سول اسپتال ٹھٹھہ بدحالی کا شکار، جنریٹر خراب، مریض بجلی اور سہولیات کے بحران میں مبتلا

ٹھٹھہ (جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے) ضلع ٹھٹھہ اور سجاول کے سب سے بڑے سرکاری طبی مرکز سول اسپتال ٹھٹھہ میں سہولیات کے فقدان اور انتظامی غفلت کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مرف نامی غیر سرکاری تنظیم اور لمس انتظامیہ کے حوالے کیے گئے سول اسپتال ٹھٹھہ میں صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
اسپتال میں موجود دو جدید جنریٹرز میں سے ایک خراب ہونے کے باعث بجلی کی بندش کے دوران مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنریٹر کی مرمت نہ ہونے کے باعث بجلی کے مسئلے کو بنیاد بنا کر دور دراز علاقوں سے آنے والے 12 مریضوں کے سرجیکل او ٹی میں آپریشن ملتوی کر دیے گئے اور انہیں واپس گھروں کو بھیج دیا گیا۔
مریضوں کے ورثا نے شکایت کی کہ اسپتال کے وارڈز میں لگے پرانے پنکھے بھی درست کارکردگی نہیں دکھا رہے، جس کے باعث شدید گرمی میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی لواحقین مجبوراً اپنے گھروں سے پیڈسٹل فین لا کر مریضوں کے لیے ہوا کا انتظام کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات رکن قومی اسمبلی سید ایاز علی شاہ شیرازی نے اسپتال کا دورہ کیا، جہاں بجلی بند ہونے کے باعث مریضوں کو اسٹریچرز پر اسپتال کی عمارت کے باہر موجود پایا۔ انہوں نے واپڈا انتظامیہ سے رابطہ کر کے بجلی بحال کرائی اور مرف کے انچارج ملک آدم سے رابطہ کر کے مریضوں کو درپیش مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔
شہریوں کا الزام ہے کہ سول اسپتال ٹھٹھہ میں انتظامی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، ایمرجنسی کے اندر موجود ڈسپنسری سے ادویات کی عدم دستیابی کی شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں، جس کے باعث مریضوں کو بعض اوقات باہر سے مہنگی ادویات خریدنا پڑتی ہیں۔
ٹھٹھہ کے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال کے انتظامی امور بہتر بنائے جائیں، خراب جنریٹر فوری درست کیے جائیں، ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور مریضوں و عوام سے مبینہ بدسلوکی کرنے والے عملے کے خلاف کارروائی کی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مرف اور لمس انتظامیہ کو کروڑوں بلکہ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود سول اسپتال ٹھٹھہ میں بنیادی طبی سہولیات کے مسائل کا سامنا ہے، جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔



