نیسلا ٹاور مسماری کا فیصلہ کالعدم، جامعہ کراچی میں غنڈہ گردی اور لی مارکیٹ میں معصوم بچے کا لرزہ خیز قتل!

کراچی: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) وفاقی آئینی عدالت نے ملک کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والا فیصلہ سناتے ہوئے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے شارع فیصل پر واقع 11 منزلہ رہائشی عمارت نیسلا ٹاور کو گرانے کے فیصلے کو یکسر غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے، جس کے بعد پورے ملک کے آئینی اور قانونی حلقوں میں ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ اس چونکا دینے والے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار عدلیہ کا نہیں بلکہ خالصتاً صوبائی حکومت کا تھا، جس نے بے گناہ شہریوں کو بے گھر کرنے والے اس فیصلے پر کئی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں کہ اب ان 44 خاندانوں کے برباد ہونے کا حساب کون دے گا۔ دوسری جانب جامعہ کراچی کے شعبہ سندھی میں اچانک ڈنڈا بردار غنڈوں کی یلغار نے خوف و ہراس پھیلا دیا، جہاں اسلامی جمعیت طلبہ کے مبینہ کارندوں نے گھس کر طالبات اور طلبہ پر وحشیانہ حملہ کیا جس کے نتیجے میں کئی طلبہ کے سر پھٹ گئے اور اساتذہ کی تذلیل کی گئی، جس پر اب صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اسی دوران لی مارکیٹ سے بھی ایک لرزہ خیز خبر آئی ہے جہاں 6 سالہ معصوم بچے محمد ولی کو درندگی اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر کے لاش تیسری منزل سے بوری میں بند کر کے نیچے پھینک دی گئی۔ ان تمام سنسنی خیز واقعات کی مکمل تفصیلات اور حقائق جاننے کے لیے معروف صحافی امداد سومرو کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button