ایران پر پراسرار حملے؛ امریکہ لاتعلق تو اور کون؟ پاکستانی سپہ سالار اور قطر کی پسِ پردہ سفارت کاری تیز!

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) مشرقِ وسطیٰ میں راتوں رات جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں اور رات کی تاریکی میں نامعلوم سمت سے آنے والے جنگی طیاروں اور ڈرونز نے ایران کے جنوبی حصے میں قائم بحریہ کے اڈوں اور اہم تنصیبات پر قیامت خیز بمباری کر کے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر کنارک، بو شہر اور چغادق میں ہونے والے ان دھماکوں کی تصدیق ایرانی حکام نے بھی کر دی ہے۔ سنسنی خیز امر یہ ہے کہ امریکی سینٹ کوم نے ان حملوں سے یکسر لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جس کے بعد یہ شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ کارروائی امریکی آشیرباد سے کویت، بحرین یا آذربائیجان میں موجود اسرائیلی خفیہ اڈے سے کی گئی ہے۔ اس خطرناک ترین صورتحال کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہنگامی طور پر پاکستان کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ کی امریکی خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دہائی دی ہے۔ چونکہ پاکستان اس امن معاہدے کا ضامن ہے، اس لیے اس ہنگامی رابطے کے بعد پاکستان اور قطر ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑی تباہی اور عالمی جنگ سے بچانے کے لیے پسِ پردہ سفارت کاری میں انتہائی متحرک ہو چکے ہیں تاکہ تہران اور واشنگٹن کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ خطے کی اس انتہائی حساس صورتحال، پراسرار حملوں کے پسِ پردہ حقائق اور ڈونلڈ ٹرمپ کی اگلی حکمتِ عملی پر سینیئر صحافی معظم فخر کا مکمل اور تفصیلی وی لاگ دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔




