30 سال تک بے لوث صحافتی خدمات انجام دینے والے سینئر صحافی غلام رسول بروہی کی بیٹے کیلئے سرکاری ملازمت کی اپیل

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) ضلع بدین کے شہر شادی لارج سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی غلام رسول بروہی نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع میں حال ہی میں تقسیم کی گئی چہارم درجے (اسکیل 4) کی سرکاری ملازمتوں میں انہیں اور ان کے خاندان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا، جبکہ انہوں نے گزشتہ 30 برسوں سے بغیر کسی معاوضے کے صحافت کے ذریعے عوام، مظلوموں اور علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مسلسل قلمی خدمات انجام دی ہیں۔ غلام رسول بروہی نے کہا کہ اپنی صحافتی زندگی کے دوران انہوں نے بھوک، غربت، بے روزگاری، سیلاب، خشک سالی، بارشوں، طوفانوں، زلزلوں اور دیگر ہنگامی حالات میں بھی اپنی صحافتی ذمہ داریوں سے کبھی منہ نہیں موڑا اور دن رات عوام کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لیے سرگرم رہے۔ ان کے مطابق ان کی 30 سالہ صحافتی خدمات کا ریکارڈ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ چھ برسوں سے شدید علالت، مالی مشکلات اور بے روزگاری کا شکار ہیں، جس کے باعث اپنا علاج کرانے سے بھی قاصر ہیں۔ دو بچوں سمیت انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے کے باوجود وہ گھر میں بسترِ علالت پر رہتے ہوئے بھی صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چہارم درجے کی ملازمتوں میں حق غریب، بے روزگار اور ضرورت مند افراد کا تھا، لیکن منتخب نمائندوں نے انہیں نظرانداز کرکے اپنے من پسند افراد کو ملازمتیں فراہم کیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ضلع بدین کے مختلف سرکاری محکموں میں سیکڑوں ملازمتیں مبینہ طور پر ایجنٹوں اور بعض اہلکاروں کے ذریعے بھاری رقوم کے عوض فروخت کی گئیں، جن سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ عوامی اعتماد اور حکومتی منشور کے منافی عمل ہے۔ غلام رسول بروہی نے کہا کہ مالی مشکلات کے باعث نہ صرف ان کا علاج رکا ہوا ہے بلکہ ان کے زیرِ تعلیم بچوں کی تعلیم بھی شدید متاثر ہو رہی ہے اور گھر کا نظام چلانا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ ان کی 30 سالہ صحافتی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے تعلیم یافتہ بیٹوں میں سے ایک کو چہارم درجے کی سرکاری ملازمت فراہم کی جائے، تاکہ ان کے خاندان کی معاشی حالت بہتر ہو سکے، وہ اپنا علاج کرا سکیں اور اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ غلام رسول بروہی نے مزید کہا کہ اگر ان کی اپیل پر ہمدردی کے ساتھ غور کیا گیا تو ان کے گھر کا بجھا ہوا چولہا دوبارہ جل سکے گا اور ان کا خاندان ہمیشہ متعلقہ قیادت کے لیے دعاگو رہے گا۔

مزید خبریں

Back to top button