طالبان حکومت کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی؛ پاکستان کی سرحد پر نیا ملک بننے کی تیاریاں!

کابل: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) افغانستان کے اندر ایک اور دھماکہ خیز دراڑ پڑ گئی ہے اور طالبان حکومت کے پیروں تلے سے زمین سرکنے لگی ہے، جس کے بعد پاکستان کی سرحد پر ایک نیا ہمسایہ ملک وجود میں آنے کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، سٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم اور سونے کی کانوں سے مالامال صوبہ بدخشاں اب عملاً طالبان ریجیم کے کنٹرول سے نکل چکا ہے، جہاں ان کے اپنے ہی مایہ ناز تاجک کمانڈر مولوی جمعہ خان فاتح نے قندھار اور کابل کی مرکزی قیادت کے خلاف کھلی بغاوت کا علم بلند کر دیا ہے۔ طالبان قیادت نے جب جمعہ خان فاتح کو بدخشاں کی معدنیات اور سونے کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث صوبہ زابل تبدیل کرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے کابل کا حکم ماننے سے صاف انکار کر دیا، جس کے بعد ہونے والی خونریز جھڑپوں میں کابل سے بھیجے گئے دستوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اس باغی گروپ نے تاجکستان اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع درواز کے پانچ مزید اضلاع پر بھی مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ دوسری طرف طالبان حکومت کے روایتی مخالفین بشمول نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور شمالی اتحاد نے اس باغی کمانڈر کے ساتھ ہاتھ ملا کر ایک نیا خطرناک اتحاد تشکیل دے دیا ہے، جس نے طالبان کے اقتدار کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ادھر پاکستان نے بھی رینجرز ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد افغان حدود میں گھس کر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر سرجیکل سٹرائیکس کی ہیں جبکہ گمنام ہیروز کی خفیہ کارروائیوں میں غزنی اور خوست کے محفوظ ٹھکانوں میں چھپے کئی اہم دہشت گرد کمانڈر پراسرار طور پر جہنم واصل ہو چکے ہیں۔
اس سنسنی خیز اور اہم ترین ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے معروف صحافی شکیل ملک کا وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:




