بی آئی ایس پی کی ہزاروں والٹ سمیں بلاک ہونے کا انکشاف؛ ماتلی میں مستحق خواتین پریشان، حکام سے وضاحت کا مطالبہ

ماتلی (رپورٹ: ایم آر گدی\جانوڈاٹ پی کے) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت تعلقہ ماتلی میں مستحق خواتین کو جاری کی گئی تقریباً 5 ہزار والٹ سمیں بلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد متاثرہ خواتین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
بی آئی ایس پی سینٹر ماتلی کے ایک ذمہ دار اہلکار نے والٹ سموں کے بلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق متعدد خواتین نے جاری کردہ والٹ سمیں اپنے موبائل فون میں فعال کرنے کے بجائے محفوظ رکھ دیں، جس کے باعث وہ غیر فعال ہو کر بلاک ہو گئیں۔
اہلکار کے مطابق متاثرہ خواتین بینک الفلاح کے مقرر کردہ ڈیوائس ہولڈر کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق مکمل کرنے کے بعد اپنی والٹ سمیں دوبارہ فعال کرا سکتی ہیں، جس کے بعد امدادی رقوم کی وصولی کا عمل بحال ہو جائے گا۔
دوسری جانب شہری، سماجی اور صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بی آئی ایس پی حکام اس معاملے پر باضابطہ وضاحت جاری کریں اور یہ بھی بتایا جائے کہ آیا اسی نوعیت کا مسئلہ ضلع بدین کے دیگر علاقوں، سندھ یا ملک کے دوسرے حصوں میں بھی سامنے آیا ہے یا نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر یہ معاملہ کسی تکنیکی یا انتظامی خرابی کا نتیجہ ہے تو اسے فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ مستحق خواتین کو امدادی رقوم کے حصول میں کسی قسم کی دشواری یا غیر قانونی کٹوتیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سماجی حلقوں نے وفاقی متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور مستحق خواتین کے مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ خبر جاری ہونے تک بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مرکزی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔



