ماتلی میں خاتون کا شوہر پر تشدد اور بچوں کی کفالت نہ کرنے کا الزام، انصاف اور تحفظ کی اپیل

ماتلی (رپورٹ: ایم آر گدی\جانوڈاٹ پی کے) ماتلی کے نواحی علاقے فلکارہ کے گاؤں نصیر خان چانڈیو کی رہائشی چار بچوں کی ماں شمشاد چانڈیو نے اپنی والدہ، چچا اور کمسن بچوں کے ہمراہ ماتلی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے شوہر پر گھریلو تشدد، نان نفقہ ادا نہ کرنے اور بچوں کی کفالت سے غفلت برتنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

شمشاد چانڈیو کا کہنا تھا کہ ان کا شوہر سکندر چانڈیو مبینہ طور پر عرصہ دراز سے انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، گھر کے اخراجات پورے نہیں کرتا اور معمولی باتوں پر انہیں بچوں سمیت گھر سے نکال دیتا ہے، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

متاثرہ خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا قوتِ گویائی سے محروم ہے اور بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے، جبکہ شوہر نہ بچوں کے کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے اور نہ ہی ان کے علاج معالجے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔

خاتون کی والدہ مسمات الہبچائی نے دعویٰ کیا کہ مبینہ گھریلو تشدد سے دلبرداشتہ ہو کر ان کی بیٹی نے ایک موقع پر بچوں سمیت نہر میں کود کر خودکشی کی کوشش بھی کی، تاہم وہ محفوظ رہیں۔

خاتون کے چچا انور چانڈیو نے الزام لگایا کہ جب انہوں نے سکندر چانڈیو سے اپنی اہلیہ اور بچوں کی کفالت کا مطالبہ کیا تو گل حسن چانڈیو نامی شخص نے ان پر مبینہ تشدد کیا۔ ان کے مطابق اس حوالے سے ڈی ایس پی ماتلی کو درخواست بھی دی جا چکی ہے، تاہم اب تک مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔

متاثرہ خاندان نے حکومت سندھ، پولیس کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خاتون اور ان کے بچوں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

واضح رہے کہ یہ الزامات متاثرہ خاندان کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ خبر جاری ہونے تک نامزد افراد یا متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

مزید خبریں

Back to top button