کراچی میں دہشتگردی کے سائے،افغانستان کی مسلسل ہٹ دھرمی اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ’انتقام‘ کے بجائے نئی حکمتِ عملی کی پکار!

کراچی(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے) وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں سیکیورٹی چیلنجز کے ہولناک سائے گہرے ہونے لگے ہیں جبکہ کراچی میں رینجرز پر حالیہ دہشت گردانہ حملے نے سیکیورٹی اداروں کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے پی اور بلوچستان کے بعد اب کراچی تک دہشت گردوں کا نیٹ ورک پہنچ چکا ہے جہاں ایک مبینہ افغان دہشت گرد کو زندہ گرفتار کیا گیا ہے جس نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ انہیں افغانستان کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں، گھر اور فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں افغان طالبان کی واپسی پر جو خوشیاں منائی تھیں وہ ایک سراب ثابت ہوئیں کیونکہ اب کابل حکومت پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں (ٹی ٹی پی) کو جیلوں سے رہا کر کے لشکر بنوا رہی ہے جبکہ داعش جیسی تنظیموں کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان کو سالانہ اربوں روپے کی خفیہ بین الاقوامی فنڈنگ حاصل ہو رہی ہے اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ وہاں 21 سے 23 دہشت گرد تنظیمیں کھلے عام ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔ مبصرین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے حملوں کے جواب میں کیے جانے والے سرحدی فضائی آپریشنز کو ‘انتقامی کارروائی’ کا نام دے کر افغان لابی عالمی سطح پر مظلومیت کا پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ وہاں سویلین نشانہ بن رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ‘انتقامی کارروائیوں’ یا کسی حملے کے بعد ردِعمل دینے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی اور اس کے بجائے جدید ڈرون و سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے سرحد پار انٹیلیجنس بیسڈ مسلسل آپریشنز (Continuous Intelligence-Based Operations) کی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی تاکہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ ملے۔ اس سیکیورٹی اور تزویراتی بحران کا گہرائی سے جائزہ لینے کے لیے توصیف احمد خان کا یہ چشم کشا وی لاگ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے لازمی دیکھیں۔




