اسٹیبلشمنٹ کا ڈنڈا چل گیا،رائیونڈ کا اثر و رسوخ ناکام،وفاق اورسکیورٹی اداروں کے درمیان شدید ترین تضاد!

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی، پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کے درمیان شدید ترین اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ اسلام آباد کی ایک انتہائی متنازع بلند و بالا عمارت ‘ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو’ سیکیورٹی اداروں کے ریڈ فلیگ پر آ گئی ہے جہاں سے حساس ترین اسلام آباد مذاکرات کے دوران سرینہ ہوٹل میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی گفتگو کی مبینہ جاسوسی کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سنگین ترین جاسوسی نیٹ ورک کے پیچھے اسرائیل جیسے عناصر کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کی آڈیوز بھی ریکارڈ کر لی گئی ہیں۔ اس حساس بلڈنگ میں رائیونڈ کی ایک انتہائی طاقتور سیاسی شخصیت سمیت ججز اور بیوروکریٹس کے فلیٹس ہیں جنہیں بچانے کے لیے وفاق پر دباؤ ڈال کر کمیٹی بنوائی گئی مگر اسٹیبلشمنٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اب گریڈ 21 کے افسران، آئی ایس آئی اور ایم آئی پر مشتمل جائنٹ ایکشن کمیٹی 60 دن میں انکوائری کرے گی اور یہ بلڈنگ اب یا تو گرا دی جائے گی یا سرکار کے قبضے میں رہے گی۔ دوسری جانب آزاد کشمیر میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک کے رہنما شوکت نواز میر کو اینٹی اسٹیٹ سرگرمیوں اور مبینہ طور پر غیر ملکی فنڈنگ و ‘را’ کے زیر اثر پاکستان مخالف بیانیہ چلانے کے الزام میں پسِ پردہ گرفتار کر لیا گیا ہے اور ریاست ان سے کوئی رعایت برتنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ادھر لاہور کے حلقہ پی پی 159 میں بیڈ گورننس کی انتہا کے باعث مخدوش چھت گرنے سے 14 معصوم بچوں کی ہلاکت نے مریم نواز حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے جہاں خود جانے کے بجائے محض 20 لاکھ روپے فی کس کا معاوضہ دے کر اور نواز شریف کے روایتی ٹویٹ کے ذریعے مٹی پاؤ پروگرام کے تحت عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button