اسلاموفوبیا کے مؤثر تدارک کے لیے اقوام متحدہ کا جامع پلان آف ایکشن ناگزیر ہے، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے انسدادِ اسلاموفوبیا میگوئل اینخل موراتینوس سے ملاقات کی، جس میں دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور اس کے مؤثر تدارک کے لیے بین الاقوامی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے میگوئل اینخل موراتینوس کو اقوام متحدہ کا خصوصی ایلچی مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی قیادت کو سراہا۔ انہوں نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے انسداد کے عالمی دن کے طور پر تسلیم کیے جانے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قرارداد کو عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے جامع پلان آف ایکشن کی تیاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر نے دنیا بھر میں اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور مسلم عبادت گاہوں پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کے تحفظ کے لیے میگوئل اینخل موراتینوس کی کوششوں کو بھی سراہا اور اس سلسلے میں باہمی تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے اسلاموفوبیا کے انسداد، بین المذاہب مکالمے اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مزید تعاون بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔



