قدرت کا قہر یا ہارپ کی ہولناک کارستانیاں؟ دنیا بھر میں زلزلے ، قیامت خیز گرمی سے تڑپتا یورپ: ایٹمی بجلی گھر بھی بند!

معظم فخر
کائنات اپنے وجود کے ایک ایسے مخدوش ترین دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں زمین کا سینہ زلزلوں سے چھلنی ہو رہا ہے اور آسمان سے برستی آگ انسانی بستیوں کو مائیکرو ویو اوون میں تبدیل کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جس طرح یکے بعد دیگرے زلزلے کے ہولناک جھٹکے محسوس کیے گئے، اس نے ارضیاتی ماہرین اور عام شہریوں کو یکساں طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل کنگری سمیت بارکھان، کوہلو اور سبی میں آنے والے ان زلزلوں نے چشمِ زدن میں سوا سو سے زائد مکانات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور درجنوں معصوم انسان اس وقت اسپتالوں میں زخموں سے چور پڑے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اسی دوران گلگت اور چلاس کے علاقوں میں گلیشیئرز کے اچانک پھٹنے سے خوفناک سیلابی ریلے امڈ آئے ہیں اور وسیع پیمانے پر ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ نے پہاڑی سلسلوں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ارضیاتی سائنس کے مطابق یہ کوئی معمولی ردعمل نہیں ہے بلکہ زمین کے نیچے موجود انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹس بیک وقت شدید ترین انداز میں متحرک ہو چکی ہیں اور صدیوں سے دبی ہوئی توانائی کو باہر نکال رہی ہیں، جو اس بات کا واضح انتباہ ہے کہ چمن فالٹ لائن پر دباؤ اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے اور آنے والے دن مزید ہولناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
مگر اس ارضیاتی قہر سے ہٹ کر اگر ہم دنیا کے دوسرے کونے پر نظر دوڑائیں تو یورپ اس وقت گزشتہ ایک ہزار سال کی بدترین اور گرم ترین ہیٹ ویو کا سامنا کر رہا ہے جس نے اب تک ایک ہزار سے زائد انسانوں کو موت کی گہری نیند سلا دیا ہے۔ فرانس، اسپین، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ جیسے سرد ممالک میں درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سے تجاوز کر چکا ہے، جس کی براہ راست اور صاف فضا کی وجہ سے حدت کا احساس پچپن ڈگری تک جا پہنچتا ہے۔ وہاں کی تاریخی سڑکیں پگھل چکی ہیں، ٹریفک سگنلز موم کی طرح بہہ رہے ہیں اور ریلوے ٹریکس گرمی کی شدت سے ٹیڑھے ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ فرانس کو اپنے انتہائی حساس ایٹمی بجلی گھروں کو ممکنہ دھماکوں اور بڑی تباہی سے بچانے کے لیے یا تو بند کرنا پڑا ہے یا ان کی پیداواری صلاحیت کو انتہائی کم کرنا پڑا ہے، جس نے پورے یورپ کو شدید ترین انرجی کرائسز اور اندھیروں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
اس قیامت خیز صورتحال نے دنیا بھر میں سازشی نظریات اور سنسنی خیز دعووں کو جنم دے دیا ہے۔ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ یورپ میں پڑنے والی یہ تاریخی گرمی اور وینزویلا میں آنے والا حالیہ تباہ کن زلزلہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ سپر پاورز کی خفیہ سائنسی شعبدہ بازی اور خطرناک ‘ہارپ ٹیکنالوجی’ کا خوفناک حملہ ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں یورپ کی عدم حمایت اور سرد مہر رویے کی وجہ سے اسے یہ عبرتناک سزا دی ہے۔ اس نظریے کو ہوا دینے کے لیے ماضی میں ایران، ترکی اور عراق پر مسلط کی جانے والی مصنوعی قحط سالی کی مثال دی جا رہی ہے، جہاں بحرین اور اردن میں نصب طاقتور ترین امریکی ریڈارز سے نکلنے والی گرم شعاعوں نے برسوں تک بادلوں کو برسننے نہیں دیا تھا، اور جیسے ہی حالیہ جنگ میں ایران نے ان ریڈارز کے سرکل کو تباہ کیا تو موسم نے یکدم پلٹا کھایا اور وہاں موسلا دھار بارشیں ہوئیں۔
مگر بحیثیت ایک تجزیہ کار، ہمیں ان افواہوں کے پسِ پردہ چھپے تلخ سائنسی حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا۔ ہارپ ٹیکنالوجی محض تین اعشاریہ دو شدت تک کا معمولی زلزلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس سے بڑے زلزلے کے لیے زمین کے نیچے کئی ایٹمی دھماکے کرنے ہوں گے جو کہ ناممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت اس وقت کائنات کے اس بھیانک دس ہزار سالہ ارضیاتی سائیکل کا سامنا کر رہی ہے جسے زمین کا ‘ماسٹر ری سیٹ’ کہا جاتا ہے۔ قطبین پر موجود لاکھوں کروڑوں ٹن وزنی گلیشیئرز ہماری اپنی ماحولیاتی بربادی اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کی وجہ سے تیز رفتاری سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین ٹیکٹونک پلیٹس پر سے وزن کم ہو رہا ہے اور وہ تیزی سے حرکت کر رہی ہیں، جبکہ زمین کے اندرونی کور میں موجود لاوے کا پھیلاؤ سست پڑ چکا ہے۔ یہ قدرت کا وہ حتمی قہر ہے جو انسان کو اس کے طرزِ عمل کو بدلنے کی آخری وارننگ دے رہا ہے۔ اگر درختوں کی بے دردی سے کٹائی اور فطرت کو تباہ کرنے کا یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو محض چند برسوں میں انسان کے لیے سمر کے سیزن میں دن کے اجالے میں کام کرنا ناگزیر ہو جائے گا اور بقا کی یہ جنگ ہم ہمیشہ کے لیے ہار جائیں گے۔



