بغیر قانونی اختیار کسی صارف کا اکاؤنٹ منجمد یا ڈیبٹ بلاک نہیں کیا جا سکے گا، اسٹیٹ بینک

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ملک بھر کے بینکوں کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت کسی بھی بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک، آپریشنل پابندی یا اکاؤنٹ منجمد کرنے کا اقدام صرف قانون کے مطابق اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

اسٹیٹ بینک نے عدالتِ عالیہ میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ بھی جمع کرا دی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹ کے خلاف کارروائی صرف قانونی اختیار اور مناسب تصدیق کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

مرکزی بینک کی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ بغیر قانونی جواز یا مجاز اتھارٹی کی تصدیق کے کسی بھی اکاؤنٹ کو بلاک یا اس پر پابندی عائد کرنے سے گریز کیا جائے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ غیر ضروری یا احتیاطی پابندیوں کے باعث اکاؤنٹ ہولڈرز کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے مؤثر اندرونی میکانزم بھی تشکیل دیں تاکہ صارفین کو غیر ضروری یا غیر قانونی پابندیوں سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

یہ ہدایات اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ایک مقدمے کے تناظر میں جاری کی گئی ہیں، جس میں جسٹس ارباب محمد طاہر نے بینکوں کو بغیر قانونی اختیار اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روکتے ہوئے اسٹیٹ بینک کو واضح پالیسی اور مؤثر داخلی نظام وضع کرنے کی ہدایت دی تھی۔

مزید خبریں

Back to top button