اربوں روپے کے اسکینڈل؛ وفاق کا ڈیزائن کردہ سیٹ اپ اور اپوزیشن کےسنگین الزامات، اندرونی کہانی طشت از بام!

اسلام آباد: خصوصی گفتگو (جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کی اندرونی حکمت عملی پر سنسنی خیز بحث اور الزامات کے بعد ملک کا سیاسی درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا ہے، جبکہ پی ٹی اے (PTA) چیئرمین اور 2 ارب روپے کی مبینہ رشوت کے اسکینڈل نے نئی ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کھاریاں پنڈی موٹروے، کشمیر کی موجودہ صورتحال اور حکومت کی مبینہ ناکامی پر مقتدر حلقوں کے ڈیزائن کردہ سیٹ اپ پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ نظام ڈھائی برس بعد بھی کسی آئینی بحران کے بغیر چل رہا ہے تو یہ موجودہ اسٹیک ہولڈرز کی کامیابی ہے، لیکن کچھ مخصوص عناصر ملک میں مسلسل عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وفاقی بجٹ کے بعد پیش کی جانے والی سپلیمنٹری گرانٹس اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے فنڈز پر اپوزیشن کے کرپشن کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک روایتی آئینی عمل قرار دیا گیا ہے جس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی شامل نہیں بلکہ یہ ہر حکومت کا معمول کا حصہ ہوتا ہے۔ سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گریڈ 18 اور گریڈ 20 کے سرکاری افسران کے خلاف بعض سیاسی جماعتوں کے سینیئر رہنما اپنے ذاتی مفادات اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے من گھڑت پروپیگنڈا مہم چلا کر پورے ریاستی نظام کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں۔ اس تمام تر سنگین سیاسی صورتحال اور اندرونی کہانی پر اس خصوصی نشست کا احوال سینئر صحافی سید عمران شفقت کے اس وی لاگ میں ملاحظہ کریں.




