نئی سپر پاور کون؟؛آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران پھر آمنے سامنے!

​واشنگٹن: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج ایک بار پھر آمنے سامنے آگئی ہیں، جس کے بعد واشنگٹن شدید صدمے کی لپیٹ میں ہے۔ سنگاپور کے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد امریکی فوج (سینٹ کام) نے ایران کے جزائر پر فضائی حملے کر کے اس کے رڈار اور ڈرون سائٹس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی میں امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون داغنے کی تصدیق کی ہے۔ کشیدگی کے اس ماحول میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دوٹوک الفاظ میں گرجتے ہوئے کہا ہے کہ "بدماشی کا جواب بدماشی سے دیا جائے گا”۔ دوسری جانب تہران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی قوانین کے تحت سیکیورٹی فیس ادا کرنی ہوگی کیونکہ تہران کا ماننا ہے کہ انہوں نے امریکہ کو شکست دے دی ہے اور اب مشرقِ وسطیٰ کے نئے سیکیورٹی ڈھانچے کو صرف ایران ہی لیڈ کرے گا۔ اس بڑی کشیدگی کا براہِ راست تعلق لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے حالیہ 14 نکاتی خفیہ معاہدے سے ہے جس میں حزب اللہ کو سائیڈ لائن کر کے لبنانی فوج کو کنٹرول دینے کی شرط رکھی گئی ہے، جس پر بیروت میں شدید ہنگامے شروع ہو گئے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی کامیاب ثالثی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی کے بعد ایران کو 300 بلین ڈالر کے سپورٹ فنڈ سمیت بڑی مراعات ملی تھیں، تاہم حالیہ بلیک میلنگ اور ہرمز پر ایرانی قبضے کی ضد اس پورے امن عمل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اس تمام تر ڈرامائی صورتحال پر صحافی معظم فخر کا یہ تجزیاتی وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button