آبنائے ہرمزمیں بلارکاوٹ بحری نقل و حرکت علاقائی وعالمی سلامتی کیلئے ضروری،امریکا وخلیجی ممالک،ایران نے اعلامیہ مستردکردیا

 منامہ/تہران(جانوڈاٹ پی کے)امریکا اورخلیج تعاون کونسل کے وزارتی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ دیرپا علاقائی امن و سلامتی کے لیے ایران کے بیلسٹک میزائل، ڈرون اور خطے میں پراکسی گروپوں کی حمایت سمیت تمام خطرات کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔

اعلامیہ کے مطابق ایران کے ساتھ کوئی بھی تجارت اور سرمایہ کاری مفاہمتی یاداشت پر عمل درآمد سے مشروط ہے، جی سی سی ممالک کے وزرا نے ایران پر عراق میں پراکسی گروپوں کی حمایت کا الزام عائد کیا، خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی ۔

وزارتی اجلاس میں نمائندوں نے آبنائے ہرمز میں بلارکاوٹ بحری نقل و حرکت کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ضروری قرار دے دیا اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول یا فیس کو مسترد کر دیا۔

اعلامیہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا گیا جبکہ پاکستان اور قطر کے ثالثی کردار کو تسلیم کیا گیا۔

خلیجی ممالک سے علاقائی پالیسی پر ازسرِنو غور کا مطالبہ کیا۔ایرانی وزارت خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ خلیج میں امریکی افواج کی موجودگی خطے میں تقسیم اورعدم استحکام کا باعث ہے، امریکا کا خلیجی ممالک کی سکیورٹی کے عزم کا دعویٰ بےمعنی ہے، خلیجی ممالک اپنی سرزمین مستقبل میں ایران کے خلاف استعمال نہ ہونےدیں۔انہوں نے خطے میں پائیدار سلامتی غیر ملکی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ممکن قرار دیا اور کہا کہ خلیجی ممالک مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کی حمایت کریں۔ایران نے آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکا، اسرائیل اور ایران پر حملوں میں شریک ممالک کو قرار دیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدوروفت عمان کے ساتھ جنگ بندی یادداشت کے مطابق ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button