اوکاڑہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت، شدید گرمی میں مریض خوار، بیڈز غائب، بیٹھ کر ڈرپ لگوانے پر مجبور

اوکاڑہ (رپورٹ وحیدآرائیں/جانوڈاٹ پی کے )محکمہ موسمیات کی جانب سے درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیشگوئی اور شدید ہیٹ ویو کے باوجود، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال اوکاڑہ میں مریضوں کو سہولیات کی فراہمی کرنے میں ناکام رہی ہے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور بے حسی کے باعث مریض اور ان کے لواحقین دہری اذیت میں مبتلا ہو رہے ہیں بیڈز کی کمی کی وجہ سے مریض بیٹھ کر ڈرپ لگوانے پر مجبور ہیں ہسپتال کے ایمرجنسی اور دیگر وارڈز میں بیڈز کی شدید قلت دیکھی جا رہی ہے دور دراز سے آئے ہوئے شدید بیمار مریضوں کو بیڈز فراہم کرنے کے بجائے کرسیوں یا بنچوں پر بٹھا کر ڈرپ لگائی جا رہی ہیں لواحقین کا کہنا ہے کہ مریضوں کی حالت غیر ہونے کے باوجود انہیں لیٹنے کے لیے جگہ تک میسر نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ان کی بیماری مزید شدت اختیار کر جاتی ہے شدید گرمی میں متعدد اے سی بند پڑے ہیں جس کے باعث ہسپتال وارڈز تنور کا روپ اختیار کرگئے جب کی درجہ حرارت 42 ڈگری کو چھو رہا ہے
مریض اور معصوم بچے گرمی کی وجہ سے نڈھال ہو چکے ہیں یسپتال آنے کا مقصد صحت یابی ہوتا ہے، لیکن یہاں کی گرمی صحت مند انسان کو بھی بیمار کر رہی ہے ہسپتال انتظامیہ خوابِ خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے
اوکاڑہ کے مریضوں اور شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ "خوابِ خرگوش” کے مزے لوٹ رہی ہے
اوکاڑہ کے شہریوں اور مریضوں کے لواحقین نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری ہیلتھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے



