سندھ میں پانی چوری کیخلاف بڑاآپریشن تیار

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے )سندھ میں پانی چوری کے خلاف بڑا آپریشن تیار، غیرقانونی پائپ لائنوں کے خاتمے کے لیے رینجرز اور پولیس طلب، کسان تنظیموں کا کارروائی پورے صوبے تک پھیلانے کا مطالبہ۔ سندھ میں نہری پانی کی چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ محکمہ آبپاشی سندھ نے وارہ برانچ سسٹم اور اس سے منسلک نہروں پر قائم غیرقانونی پائپ لائنوں اور پانی چوری کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے محکمہ داخلہ سے پولیس اور رینجرز کی تعیناتی کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ سرکاری مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ غیرقانونی تنصیبات کے ذریعے آبپاشی کا پانی چوری ہونے سے نہری نظام متاثر، پانی کی منصفانہ تقسیم متاثر اور زیریں علاقوں کے آبادگار شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ سکھر بیراج رائٹ بینک ریجن لاڑکانہ کے چیف انجینئر کی رپورٹ کے مطابق وارہ برانچ اور اس کی شاخی نہروں پر متعدد غیر مجاز پائپ نصب کرکے پانی کا رخ موڑا جا رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف پانی کی چوری ہو رہی ہے بلکہ نہری نظام میں آپریشنل رکاوٹیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان ٹیل اینڈ آبادگاروں کو پہنچ رہا ہے جو پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ محکمہ آبپاشی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ غیرقانونی پائپوں کے خاتمے اور پانی چوری روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت ناگزیر ہے، اس لیے جولائی 2026ء کے اختتام تک خصوصی آپریشن کے دوران پولیس اور رینجرز کی تعیناتی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچتے ہوئے کارروائی مکمل کی جا سکے۔ اس پیش رفت کے بعد سندھ کی مختلف کسان اور آبادگار تنظیموں نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی چوری صرف وارہ برانچ کا مسئلہ نہیں بلکہ صوبے کے بیشتر نہری نظام اسی نوعیت کی شکایات کا شکار ہیں۔ ان تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت واقعی پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا چاہتی ہے تو رینجرز اور پولیس کی تعیناتی کا دائرہ صرف وارہ برانچ تک محدود رکھنے کے بجائے پورے سندھ تک بڑھایا جائے اور تمام بڑی نہروں، شاخی نہروں اور حساس مقامات پر بیک وقت کارروائی کی جائے۔ آبی ماہرین کے مطابق سندھ اس وقت پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلیوں اور دریائی بہاؤ میں مسلسل اتار چڑھاؤ جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں پانی چوری کے واقعات نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کرتے ہیں بلکہ آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مؤثر نگرانی، سخت قانونی کارروائی اور شفاف آبی انتظام کے ساتھ یہ مہم کامیاب بناتی ہے تو لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور برسوں سے پانی کی قلت کا شکار ٹیل اینڈ آبادگاروں کو بھی ریلیف مل سکتا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وارہ برانچ میں مجوزہ آپریشن کو سندھ میں پانی چوری کے خلاف ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آبادگار حلقے اس بات ثپر زور دے رہے ہیں کہ صوبے بھر میں غیرقانونی پائپ لائنوں، ناجائز واٹر کورسز اور پانی چوری کے دیگر ذرائع کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہی اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل ثابت ہو سکتی ہے

مزید خبریں

Back to top button