بدین میں پانی کی شدید قلت، دھان کی فصل خطرے میں، کسان بورڈ سندھ کا انتباہ

ماتلی(رپورٹ ایم آر گدی/جانو ڈاٹ پی کے) کسان بورڈ سندھ کے جنرل سیکرٹری انجینئر سید علی مردان شاہ گیلانی نے ضلع بدین میں پانی کی مسلسل قلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھان کی فصل شدید خطرات سے دوچار ہو چکی ہے اور کاشتکار سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔
اپنے ایک روزہ دورۂ ماتلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دھان کی کاشت کا موزوں وقت تیزی سے گزر رہا ہے جبکہ بیشتر علاقوں میں آبادگار زمینوں اور نرسریوں کی تیاری مکمل کرنے کے باوجود پانی کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نہروں اور کینالوں میں مطلوبہ مقدار میں پانی کی عدم دستیابی کے باعث کاشتکاری کا عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جس سے تیار نرسریاں سوکھنے اور قیمتی بیج ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
سید علی مردان شاہ گیلانی نے کہا کہ کسان پہلے ہی کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ پانی کی قلت نے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو دھان کی فصل کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے اثرات پورے ضلع کی زرعی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی نہ صرف فصلوں بلکہ تالابوں، آبی ذخائر اور جنگلی حیات پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے، جس سے پرندوں اور دیگر جانداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت، محکمہ آبپاشی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ بدین ضلع کی نہروں میں فوری طور پر پانی چھوڑا جائے تاکہ فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے، بصورت دیگر کسان احتجاج پر مجبور ہوں گے۔



