بدین کے ساحلی علاقوں میں پانی کا شدید بحران ہجرت اور قحط کا خدشہ

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)بدین کے ساحلی علاقوں میں پانی کا شدید بحران ہجرت اور قحط کا خدشہ تفصیلات کے مطابق ضلع بدین کی ساحلی پٹی اس وقت شدید پانی کے بحران کا شکار ہے پینے اور آبپاشی کے پانی کی سخت قلت کے باعث سینکڑوں دیہاتوں کی انسانی اور مویشی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہو گئی ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر سندھ حکومت نے صورتحال پر قابو نہ پایا تو علاقے میں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے ساحلی پٹی کے کئی قدیم قصبے اور دیہات، جن میں احمد راجو، سیرانی، شیخ کریو، بھنڈاری، حاجی حجام ملاح، شیخانی گھاڑی، روپاماڑی، نریڑی، بھیڈمی، لاکھو پیر، گولو مینڈھرو سمیت متعدد بستیاں شامل ہیں، پانی کی شدید قلت سے بری طرح متاثر ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق پوری ساحلی پٹی میں پانی کی فراہمی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور لوگ پانی کی ایک ایک بوند کے لیے پریشان ہیں مقامی افراد کا الزام ہے کہ بااثر عناصر منڈ کے علاقوں میں پانی چوری کر رہے ہیں، جس کے باعث آخری سرے (ٹیل) کے علاقوں تک پانی نہیں پہنچ رہا۔ ٹیل کے نہروں اور شاخوں میں پانی کے بجائے صرف کیچڑ اور ریت نظر آ رہی ہے، جبکہ صاف پینے کے پانی کی کمی کے باعث معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں رہائشیوں کے مطابق پانی کے بحران سے مویشی بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں اور متعدد جانور پیاس اور چارے کی کمی کے باعث کمزور ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب روزگار کے ذرائع ختم ہونے اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث کئی خاندان علاقے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے ساحلی پٹی کے متعدد دیہات آہستہ آہستہ ویران ہوتے جا رہے ہیں پہلے کسان صبح سویرے اپنے کھیتوں میں کام کے لیے جایا کرتے تھے، مگر اب خواتین اور معصوم بچے کھارا پانی ہونے کی وجہ سے خالی برتن اٹھائے کئی کئی کلومیٹر کا سفر طے کرکے میٹھے پانی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں، جس کے باعث انسانی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہےمتاثرہ دیہات کے رہائشیوں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں عبدالغفور چانڈیو، عزیز دیرو اور عبداللہ چانڈیو نے محکمہ آبپاشی کی مبینہ غفلت اور ٹیل دشمنی کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیر آبپاشی سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیل کی نہروں میں فوری طور پر پینے اور آبپاشی کا پانی بحال کیا جائے، بصورت دیگر پوری ساحلی پٹی میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور بدین کراچی شاہراہ پر دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دی جائے گی۔



