عوامی تحریک کی جانب سے سندھ میں پانی کی قلت،زمینوں پرقبضوں کیخلاف احتجاج

ٹھٹھہ(جاویدلطیف میمن/جانوڈاٹ پی کے)سندھ کی ہزاروں ایکڑ زمین ذوالفقارآباد، بحریہ ٹاؤن، کمانڈر سٹی اور دیگر قبضہ گیر کالونیوں کے حوالے کرنے، سندھ کے پانی پر ڈاکے، ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم، کاروکاری، مہنگائی، بیروزگاری اور منشیات کی بڑھتی ہوئی فروخت کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے بگھاڑ میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، ضلع ٹھٹہ کے صدر رزاق چانڈیو، مٹھا خان لاشاری، گھنور خان زنئور، بلاول لاشاری، غلام علی زنئور، عوامی تحریک تعلقہ کیٹی بندر کے صدر اسلم سموں، علی اکبر لاشاری، نظیر شاہ، عثمان، ایوب انڑ، غفار انڑ، امداد سلیمان انڑ، نظر خاصخیلی، حنیف جانیارو، معشوق انڑ، اشفاق انڑ، مہران شاہ اور دیگر رہنماؤں نے کی ریلی میں سیاسی، سماجی کارکنوں، کسانوں، طلبہ اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا کر مطالبات کی منظوری کے لیے شدید نعرے بازی کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کا پانی بند کر کے مصنوعی قحط پیدا کیا گیا ہے۔ پنجاب کے حکمرانوں نے سندھ کا پانی بند کر کے ملکی، علاقائی، اسلامی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے انہوں نے کہا کہ تعلقہ کیٹی بندر کی دیہ ٹھاری والی کی 1458 ایکڑ زمین سمیت سندھ کی ہزاروں ایکڑ زمین ذوالفقارآباد، بحریہ ٹاؤن، کمانڈر سٹی اور دیگر قبضہ گیر کالونیوں کے حوالے کر کے سندھیوں کو اپنے ہی وطن میں بے وطن کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ سندھ کی زمینوں، پانی اور وسائل پر مسلسل ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں۔ تعلقہ کیٹی بندر کی دیہ ٹھاری والی کی 1458 ایکڑ زمین ذوالفقارآباد کے حوالے کرنا مقامی کسانوں کے حقوق پر براہ راست حملہ ہے، جسے سندھ کا باشعور عوام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے حکمرانوں کی جانب سے سندھ کے پانی پر ڈاکے کے سبب سندھ کی ساحلی پٹی سالوں سے پانی کے شدید بحران کا شکار ہے، جس کے باعث زرعی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں، پینے کے پانی کی قلت بڑھ گئی ہے اور ہزاروں خاندان ہجرت پر مجبور ہیں۔ ڈیلٹا کو مطلوبہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے ٹھٹہ، سجاول، بدین اور کراچی کے اضلاع کے سینکڑوں گاؤں اور ہزاروں ایکڑ زرعی زمین سمندر نگل چکا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے سندھ کا پانی بند کرنے کے سبب سندھ کے لوگ، پرندے سمیت تمام جاندار بھوک پیاس سے مر رہے ہیں، مگر ملک کے حکمران نوٹس لینے کو بھی تیار نہیں۔ سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے مگر سندھ کا وزیر اعلیٰ اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے کو تیار نہیں سندھ کے وزیر اعلیٰ پنجاب حکومت کے خلاف آئینی فورمز پر سخت احتجاج کرنے کے بجائے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اپنا کارنامہ بتا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں پانی کی شدید قلت کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ وفاقی حکومت، ارسا، سندھ حکومت اور محکمہ آبپاشی کی سندھ دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے پنجاب کو سندھ کا پانی دے دیا ہے پنجاب حکومت نے سندھ کے حصے کا پانی روک کر سندھ کی ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے۔ دھان کی پنیری جل کر سوکھ گئی ہے، کسان معاشی بربادی کا شکار ہیں اور ماہی گیروں کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارسا میں سندھ کے نمائندے سمیت متعلقہ ادارے کئی مہینوں سے پیدا ہونے والے بحران سے واقف تھے، مگر انہوں نے سندھ کو اس کا حصے کا پانی دلانے کے لیے کچھ نہ کیا، نہ ہی پنجاب کی غیرقانونی نہروں کو بند کرانے کے لیے کوئی احتجاج کیا، کوئی خط و کتابت کی۔ ارسا میں سندھ کا نمائندہ نااہل ہے جو سوتا رہا اور پنجاب سندھ کا پانی روک کر اپنے ڈیم بھرتا رہا۔ پنجاب کے فلڈ کینال اب بھی کھلے ہوئے ہیں مگر سندھ حکومت بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ نتیجتاً سندھ کی زراعت، معیشت اور ماحول کو شدید نقصان پہنچا ہے ارسا کی جانب سے سندھ کا پانی روکنے کے سبب ڈیلٹا کی تباہی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ساحلی پٹی میں ماحولیاتی خطرات بڑھ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری، جنہوں نے چھ کینالوں کی منظوری سے لے کر پانی کی تقسیم تک ہر معاملے میں سندھ کے مفادات کو نظرانداز کیا، وہ کینالوں کی منظوری تو دے دیتے ہیں مگر سندھ میں پانی کی شدید قلت کے باوجود صدر زرداری اور صدارتی ہاؤس نے سندھ کو اس کا حصے کا پانی دلانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کو اس کا حصے کا پانی فوری فراہم کیا جائے پانی روکنے کے ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے متاثرہ کسانوں اور ماہی گیروں کو نقصان کا معاوضہ دیا جائے ساحلی پٹی کے پانی کے بحران کا مستقل حل نکالا جائے دیہ ٹھاری والی کی 1458 ایکڑ زمین مقامی لوگوں کی ملکیت تسلیم کی جائے کارپوریٹ فارمنگ، ذوالفقارآباد، بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے سٹی، کمانڈر سٹی سمیت تمام قبضہ گیر منصوبوں کو الاٹ کی گئی زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے زمینیں سندھ کے اصل وارثوں کو دی جائیں منشیات کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور عوام کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔



