سوشل میڈیا پر کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز مہم پر ریاستی ادارے خاموش!وادی میں نئی احتجاجی لہر

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)آزاد کشمیر میں شدید نوعیت کے آئینی و سیاسی بحران اور بدترین عوامی احتجاج کے باوجود صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی پُراسرار خاموشی اور وزیراعظم شہباز شریف کی عدم دلچسپی نے کئی سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے شیڈول کے معاملے پر وفاق میں اتحادی جماعتیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن، ایک دوسرے کے سامنے آ گئی ہیں اور دونوں جانب سے شدید ترین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ وفاق میں عسکری و سفارتی کامیابیوں میں مصروف مسلم لیگ ن کا موقف ہے کہ انتخابات آئینی تقاضا ہیں اور یہ ہر صورت مقررہ تاریخ پر ہونے چاہئیں، جبکہ آزاد کشمیر میں برسراقتدار پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کے موجودہ ہنگامہ خیز حالات اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری احتجاج کے پیشِ نظر انتخابی شیڈول کو فوری طور پر مؤخر کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں ہونے والے انتخابات پُرامن نہیں ہوں گے اور مین اسٹریم پارٹیاں وہاں اپنے پاؤں نہیں جما پائیں گی، جبکہ ن لیگ اسے اپنی حکومت کی مدت میں غیر آئینی توسیع دینے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ اس شدید ترین تنازعے کے دوران سوشل میڈیا پر ایک خاص مائنڈ سیٹ کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف شدید نفرت انگیز مہم بھی شروع کر دی گئی ہے جس پر ریاستی ادارے مکمل خاموش ہیں۔ وفاقی حکومت کی تمام تر توجہ اس وقت امریکہ ایران تاریخی امن معاہدے پر مرکوز ہے، جس کی وجہ سے آزاد کشمیر کا حساس ترین مسئلہ پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ خطے کے اس ابتر ہوتے ہوئے سیاسی و سیکیورٹی بحران کی اندرونی کہانی جاننے کے لیے سینئر صحافی امداد سومرو کا یہ خصوصی وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے ویڈیو لنک پر کلک کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button