امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے 14 نکات

تہران (جانوڈاٹ پی کے )امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر آخرکار اتفاق رائے ہو گیا ہے، جس پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں 14 نکات شامل ہیں، جن میں لبنان سمیت جنگ کا خاتمہ اور ایران کے اطراف سے امریکی افواج کا انخلا بھی شامل ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے مفاہمتی یادداشت کی ان تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
مہر نیوز کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنے اس عزم کی بھی تجدید کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
اس میں یہ نکات بھی شامل ہیں کہ ایران پر عائد تیل اور بعض مالی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادی تعمیرِ نو کے منصوبے پیش کریں گے۔
حتمی مذاکرات کے لیے 60 دن کی مدت مقرر ہوگی اور ان کا مرکز جوہری ہتھیاروں کی تیاری، باقی ماندہ پابندیاں، اور ایران سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں ہوں گی۔
اس مدت کے دوران منجمد ایرانی فنڈز میں سے تقریباً 24 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے، امریکا باضابطہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے جن میں سے 12 ارب ڈالر جاری کرے گا۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز ٹرمپ اور ایرانی حکام کے درمیان منجمد ایرانی اثاثوں کے اجرا کے معاملے پر اختلاف سامنے آیا تھا۔
14 واں نکتہ مفاہمتی یادداشت کے اہم عناصر کا خلاصہ پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ حتمی تصفیہ بعض وعدوں کی تکمیل سے مشروط ہوگا، جن میں کچھ فنڈز کا اجرا، تیل پر عائد پابندیوں کی معطلی، اور ایرانی بندرگاہوں کی آمدورفت پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
مسودے کے دیگر نکات میں یہ بھی درج ہے کہ ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی اور آبنائے ہرمز 30 دن کے اندر دوبارہ کھول دی جائے گی۔
حتمی معاہدہ صرف یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں کے مستقبل، ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، اور جنگ کے بعد ایران کی تعمیرِ نو تک محدود ہوگا۔
مجوزہ دستاویز میں لبنان سمیت متعدد محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کی شقیں بھی شامل ہیں۔ نیز امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیرِ نو میں مدد کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر فراہم کریں گے۔
ایران کے میزائل پروگرام اور اس کی ’’مزاحمتی گروہوں‘‘ کی حمایت سے متعلق معاملات اس میں شامل نہیں ہوں گے۔
مسودے میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے کسی بھی حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کی جائے، تاکہ اس کے نفاذ کے لیے ایک بین الاقوامی فریم ورک فراہم کیا جا سکے۔
- روئٹرز کے مطابق مسودے کے تحت ایران فوری آبنائے ہرمز کھول دے گا
- امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا
- امریکا حتمی معاہدہ ہونے تک ایران پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائے گا
- امریکا مخصوص وقت کے لیے ایرانی تیل پر سے پابندیاں ہٹا دے گا
- امریکا ایران کے منجمد 25 ارب ڈالر کے اثاثے بھی علاقائی ملکوں کے تعاون سے بحال کرنے پر رضامند ہو گیا
- ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا
- حتمی معاہدے تک ایران یورینیم کی افزودگی روک دے گا
- دونوں فریقوں کی رضامندی کے بعد اگلے 2 ماہ میں حتمی بات چیت ہوگی
- ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اتحادیوں کو ایران کو تعمیر نو کے لیے کم ازکم 300 ارب ڈالر دینا ہوں گے
- حتمی ایران امریکا معاہدے کی توثیق سلامتی کونسل قرارداد کے ذریعے کرنا بھی مسعودے میں شامل ہے



