ماتلی،لوڈ شیڈنگ کیخلاف احتجاج پر سیکڑوں افراد کیخلاف مقدمہ،مظاہرین نے سڑک بند کردی

ماتلی(ایم آر گدی/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے)تعلقہ ماتلی کے گاؤں ملہن سمیت50سے زائد دیہات کی گزشتہ15روز سے منقطع بجلی بحال نہ کیے جانے اور احتجاج کرنے والے دو اساتذہ سمیت متعدد دیہاتیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جانے کے خلاف سیکڑوں دیہاتیوں، خواتین، مردوں اور گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا) کے رہنماؤں نے ماتلی۔ٹنڈو غلام علی روڈ پر زرداری روڈ کے قریب پولیس چیک پوسٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دے کر سڑک بلاک کردی، جس کے باعث سڑک کے دونوں اطراف مسافر اور مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ مختلف شہروں کو جانے والی ٹریفک کئی گھنٹوں تک معطل رہی۔ شدید گرمی اور حبس کے باوجود مظاہرین گرم سڑک پر بیٹھے رہے اور حیسکو کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے بجلی کی فوری بحالی اور مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حیسکو حکام نے ملہن سمیت گرد و نواح کے 50 سے زائد دیہات کی بجلی منقطع کر رکھی ہے جو 15 روز گزرنے کے باوجود بحال نہیں کی گئی، جس کے باعث علاقہ مکین شدید مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ بجلی کی طویل بندش سے پینے کے پانی کی فراہمی، گھریلو معمولات، کاروباری سرگرمیاں اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چند روز قبل دیہاتیوں نے بجلی کی بحالی کے لیے پرامن احتجاج کیا تھا جس پر حیسکو حکام نے ماتلی تھانے میں دو اساتذہ کامران نظامانی اور منیر نظامانی سمیت متعدد دیہاتیوں کے خلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج کرا دیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ دیہات کی بجلی فوری طور پر بحال کی جائے اور درج مقدمات واپس لیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ بعد ازاں ضلع کونسل بدین کے چیئرمین علی اصغر ہالیپوتہ دھرنے کے مقام پر پہنچے اور حیسکو حکام، پولیس اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کرائے، جس دوران بجلی کی بحالی اور مقدمات کے معاملے کے حل کے لیے یقین دہانی کرائی گئی، جس پر مظاہرین نے اپنا دھرنا مشروط طور پر ختم کردیا اور ٹریفک کی آمد و رفت بحال ہوگئی۔

مزید خبریں

Back to top button