ڈیپلو:معصوم بچی کے حوالے سے تشویشناک الزامات،فوری تحقیقات اور ریسکیو کا مطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر کے ڈیپلو تھانے کی حدود میں واقع گاؤں "دونہائی” کے رہائشی محنت کش موہن کولہی اور ان کی اہلیہ نے عوامی پریس کلب کلوئی پہنچ کر ایک معصوم بچی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک الزامات سامنے لائے ہیں۔ متاثرہ والدین کے مطابق کچھ بااثر افراد نے انہیں ورغلا کر محض دس ہزار روپے کے عوض ان کی 9 سالہ بیٹی "سگنا تیجو کولہی” کو اپنے حوالے کرنے کا کہا۔ والدین کا کہنا ہے کہ موجودہ ویکسین کارڈ اور دیگر دستاویزات سے بھی بچی کی عمر نابالغ (9 سال) ثابت ہوتی ہے۔ والدین نے مزید الزام لگایا ہے کہ بچی کو لے جانے کے بعد گزشتہ ایک ماہ سے کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔ جب وہ اپنی بچی کو واپس لینے گئے تو ان پر مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے سامنے ہی بچی پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا اور بعد میں اسے کسی نامعلوم جگہ منتقل کر دیا گیا۔ والدین نے ذرائع سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بچی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ متاثرہ خاندان نے الزام لگایا ہے کہ بچی کے ساتھ مبینہ طور پر سنگین زیادتی کا بھی شبہ ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے۔ البتہ، یہ تمام الزامات ابھی تک کسی آزادانہ تحقیقات سے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ متاثرہ خاندان اور علاقے کے لوگوں نے حکام بالا سے درج ذیل مطالبات کیے ہیں کہ معصوم بچی کو فی الفور بازیاب کرایا جائے۔ بچی کا مکمل طبی معائنہ اور قانونی چیک اپ کروایا جائے۔ بچی کو بحفاظت اور محفوظ طریقے سے وارثوں کے حوالے کیا جائے۔ واقعے میں ملوث تمام بااثر ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے۔ چائلڈ پروٹیکشن اور انسانی حقوق کے ادارے اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور کسی بھی قسم کی تاخیر کسی بڑے انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے متعلقہ حکام سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔



